خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 624

خطبات طاہر جلد ۳ 624 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء قرآن کریم حق دیتا ہے کہ جو قرآن کو سچا سمجھتے ہیں وہ اس پر عمل نہ کریں۔اگر دھو کے باز کوئی اور اس کے ماننے والے ہدایت پا جائیں نعوذ باللہ من ذلک اور قرآن پر عمل کا فیصلہ کر لیں اگر یہی شکل بنتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہدایت نہیں اب تمہیں پانے دی جائے گی ، قرآن کریم کو سچا سمجھنے کا حق ہی تم سے چھین لیا جائے گا اور سچا سمجھتے ہو تو خدا کا حکم ایک طرف ہوگا اور آمر وقت کا ایک طرف اور آمر کی بات تمہیں ماننی پڑے گی قرآن کو چھوڑنا پڑے گا یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری دلیل ان کی اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔دوسری دلیل یہ ہے کہ ظفر اللہ خاں نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔اس سے کیا تعلق اس بات کا کہ شریعت اسلامیہ کسی آمر کو اجازت دیتی ہے کہ نہیں کہ وہ قرآن پر عمل کرنے سے کسی کو محروم کر دے؟ اگر یہ دلیل درست ہے تو پھر وہ لوگ جو قائد اعظم کو کا فراعظم کہتے تھے وہ تو ان کی طرف کھڑے تھے ، وہی احرار تھے جو کل تک قائد اعظم کو کافر اعظم کہہ رہے تھے ( ہفت روزہ چٹان لاہور مورخہ ۶ نومبر ۱۹۵۰) اور ان میں سے کسی نے ان کا جنازہ نہیں پڑھا تھا بلکہ وہ تو لعنتیں ڈالنے والے لوگ تھے، وہ تو کہتے تھے کہ سب سے بڑا ظلم کیا ہے اسلام پر جو ، پاکستان بنادیا قائد اعظم نے اور وہ قائد اعظم کو کافر اور اس کے پاکستان کو پلیدستان کہتے تھے۔(خطبہ صدارت شیخ حسام الدین از تاریخ احرار مرتبہ امیر افضل حق صفحه ۵۹ ناشر مکتبہ احرار اسلام مارچ ۱۹۶۸) ان کے متعلق پھر کیا حکم ہوگا شرعی عدالت کا؟ نہ جنازہ پڑھنے والے سے اگر یہ سلوک کرتا ہے قرآن کریم یعنی قائد اعظم کا جو جنازہ نہیں پڑھے گا اس کے متعلق پیشگوئی ہے کہ یہ اس سے ہو جانا چاہئے تو پھر جو اس کو کافر اعظم کہتے ہیں، جو اس کے بنائے ہوئے ملک کو پلیدستان کہتے ہیں ان کے متعلق بھی آخر کوئی سلوک ہونا چاہئے ! وہ بھی نکالیں اور پھر آگے بڑھیں۔واقعہ یہ ہے کہ پلیدستان کہنے والے آج زور لگا ر ہے ہیں کہ کسی طرح پلیدستان بن جائے کیونکہ جو حرکتیں ہیں وہ پاکستان والی نہیں ہیں۔پوری کوشش ہے کہ ہم بنا کے دکھا دیں اور بعد میں کہیں کہ دیکھو ہم کہتے نہیں تھے کہ پلیدستان بنے گا۔قائد اعظم مرحوم بیچارے نے تو پاکستان ہی بنایا تھا لیکن اب ایسے لوگ اوپر آگئے ہیں جو فیصلہ کر کے آئے ہیں کہ ہم نے اس کو پلیدستان بنا کر چھوڑنا ہے کیونکہ جو رویہ ہے، جو طرز ہے وہ ساری یہی ہے۔جہاں تک طرز کلام کی بات ہے یہ طرز کلام تو وہی ہے جو گزشتہ زمانوں میں ہمیشہ سے