خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 623

خطبات طاہر جلد ۳ 623 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء جھوٹے ہو؟ تم لوگوں نے جو یہ آرڈنینس جاری کیا ہے قرآن سے دیکھ کر ہمیں بتاؤ کہ تمہیں یہ کیا لگتا ہے ، کیا قرآن اس آرڈینینس کے پیچھے ہے یا اس کے مخالف کھڑا ہوا ہے؟ یہ تھا فیصلہ والا مسئلہ اور صرف مرکزی نکتہ اتنا تھا کہ قرآن کریم کی رو سے کسی انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو جو قرآن کریم کو سچا تسلیم کرتا ہو اور واجب التعمیل سمجھتا ہو اور یہ ایمان رکھتا ہو کہ قرآن کریم کا حکم ماننا ضروری ہے اس کو قرآن کریم پر عمل کرنے سے کسی رنگ میں بھی محروم کر سکتا ہے یا نہیں ؟ یہ دوٹوک اتنی بات تھی صرف اور اپنے متعلق کچھ نہیں پوچھا گیا تھا ان کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا تھا کہ تمہارے غلط فیصلے ہورہے ہیں اور تم اپنی قوم پر ظلم کر رہے ہو۔ایک ایسے آمر کو جس کا آمریت کا جواز عوام الناس کی طرف سے بھی نہیں ملتا اس کو خدا کا نمائندہ بنارہے ہو، اس کو یہ حق دے رہے ہو کہ وہ شریعت کے متعلق فیصلے کروائے اور شرعی عدالتیں مقرر کرے۔یہ مسئلہ تھا حل طلب اور اس کے اوپر کوئی بحث نہیں ہوئی۔حیرت کی بات ہے، وہ سارا فیصلہ آپ پڑھ لیں اس میں اشارہ بھی یہ بحث موجود نہیں کہ کیوں احمدیوں کے دلائل اس معاملہ میں غلط ہیں؟ قرآن کہاں یہ فیصلہ دیتا ہے کہ قرآن کریم کو واجب التعمیل سمجھنے والے کو جو ایمان رکھتا ہو قرآن کریم پر عمل ضروری ہے اس کو قرآن کریم پر عمل سے محروم کیا جا سکتا ہے۔اور دوسری بات یہ پوچھی گئی تھی کہ اگر یہ دیتا ہے فیصلہ تو کہاں دیتا ہے اور کس کو دیتا ہے اختیار؟ کیا جمہور کو اختیار دیتا ہے کہ وہ جسے چاہیں یا ان کے نمائندے جسے چاہیں محروم کر دیں قرآن پر عمل کرنے سے؟ یا نسلی سلطان کو اجازت دیتا ہے؟ یا کسی فوجی آمر کو اجازت دیتا ہے؟ اس کا ذکر کہیں قرآن اور سنت میں ہونا چاہئے تھا ، آخر اتنا اہم معاملہ ہے، ایک بندہ کو اس کے مذہبی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے اور قرآن اور سنت میں اس کا ذکر ہی کہیں نہ ہو یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تو اس بات کا کوئی ذکر نہیں۔جو ذکر ہے وہ گالی گلوچ ہے، ایسی عامیانہ زبان ہے، ایسی بے ہودہ کلامی کی گئی ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کہ وہ تو لگتا ہی نہیں کہ کوئی شرفاء کی زبان استعمال کی گئی ہے کجا یہ کہ کوئی عدالت ہو اور عدالت بھی چھوڑیں شرعی عدالت۔چنانچہ انہوں نے جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دے کر کہا ہے وہ یہ کہا ہے کہ جھوٹا ہے نعوذ باللہ من ذلک ، خدا پر افترا کرنے والا ہے، مکار ہے، دھو کے باز ہے اور اس لئے