خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 622 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 622

خطبات طاہر جلد ۳ 622 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء گی۔اس وقت سادہ لوح عوام الناس اپنے علما کے پاس جائیں گے کہ فیصلے کروائیں لیکن وہاں جو کچھ وہ دیکھیں گے فیصلہ کرنے کے مجاز لوگ نہیں ہونگے کچھ اور ہی ان کو نظر آے گا اور جو الفاظ آنحضرت ﷺ نے اختلافات کے زمانہ کے علما کے بارے میں استعمال فرمائے ہیں وہ ایسے سخت ہیں کہ وہی الفاظ اگر میرے منہ سے یا کسی اور احمدی کے منہ سے یہ علماسنیں تو قتل و غارت پر آمادہ ہو جائیں گے اس لئے اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اللہ تعالی نے آئندہ زمانہ کے حالات کی خبر دی، یہ بتایا تھا کہ امت میں اختلافات پیدا ہو جائیں گے عقائد میں خصوصاً اور جب نظریات بٹ جاتے ہیں تو امتیں بٹ جایا کرتی ہیں ایسی صورت میں یہ نہیں فرمایا کہ علما کے پاس جاؤ اور ان سے فیصلے لو، فرمایا وہ جو غلط نہی سے علما کے پاس جائیں گے فیصلوں کی خاطر ان کو وہاں کچھ اور ہی نظر آئیگا۔دوسری جگہ ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔شَرُّمَنُ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ (السنن الواردة في الفتن از ابوعمر وعثمان بن سعيد المعترى الدانی باب ما جاء في شدة الزمان وفساد الدین سیہ وہ لوگ ہیں جو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے اور ظاہر بات ہے کہ یہ اختلافات کے دور کی بات ہے اختلافات کے دور کے علماء کی بات ہے اس لئے اتنی واضح ہدایات کے باوجود جبکہ آنحضرت کا شدید انذار موجود ہے قرآن کریم کھول کھول کر اس مضمون کو بیان فرمارہا ہے کہ مذہبی عقائد کے معاملہ میں کسی بندہ کو فیصلے کا اختیار نہیں سوائے اللہ کے نبی کے اور وہ بھی اس وجہ سے کہ وہ خدا سے علم پا کر فیصلے کرتا ہے اور اگر اس سے تمہارا ختلاف ہے تو پھر خدا فیصلہ کرے گا، کسی اور کا کام نہیں ہے وہ فیصلے کرے اس کے باوجود کوئی مسلمان کسی دوسرے عالم کے پاس اپنے مذہبی عقائد لے کر فیصلوں کے لئے جاہی نہیں سکتا۔چنانچہ یہ جو ہمارے وکلاء جو اس مبینہ شرعی عدالت میں پہنچے یہ ہرگز اس عرض کے لئے وہاں نہیں گئے تھے نہ انہوں نے یہ پیش کش کی ، اور نہ انہوں نے پوچھا کہ تمہارا ہمارے متعلق کیا خیال ہے؟ ہم مسلمان لگتے ہیں تمہیں کہ غیر مسلم نظر آتے ہیں؟ نہ یہ پوچھا کہ خاتم النبیین کی صحیح تشریح ہمیں بتائیں کہ وہ کیا ہے؟ جن کو خدا تعالیٰ نے نور عطا فرمایا ہو، جن کے اند رحکم اور عدل نازل ہو گیا ہو، جو اللہ سے علم پا کر قرآن کا عرفان انہیں بخش رہا ہو ان کا کیا کام ہے کہ منکرین کے پاس جا کر ان سے پوچھیں کہ ہم بچے ہیں یا جھوٹے ہیں؟ یہ تو بحث ہی نہیں تھی ، بحث صرف یہ تھی کہ تم لوگ بچے ہو کہ