خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد ۳ 620 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء اس کے بعض پہلوؤں پر تو میں نے پہلے روشنی ڈالی تھی کہ قرآن کریم معاملات میں فیصلوں سے متعلق کسی عدالت کو شرعی سمجھتا ہے اور کسے غیر شرعی سمجھتا ہے اور سوائے اس کے کہ عدل کی تعریف شرعی عدالت پر صادق آتی ہو قرآن کریم سے اس کے سوا کچھ بھی استنباط نہیں ہوتا لیکن جہاں تک عقائد کا تعلق ہے، نظریات کا تعلق ہے قرآن کریم انبیا کے سوا کسی شرعی عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور انبیاء کے بعد پھر خدا کو احکم الحاکمین قرار دے کر اس شرعی عدالت کی سپریم کورٹ قرار دیتا ہے اور اس سلسلہ میں قرآن کریم میں دونوں قسم کے احکامات ملتے ہیں۔ایسے احکامات بھی جن کا تعلق بنی نوع انسان کے آپس کے معامالات سے ہے اور اس میں قرآن کریم بار بار یہی ہدایت فرماتا ہے کہ اگر تم میری نمائندگی کرتے ہو، اگر تم میرا خوف کرتے ہو تو پھر عدل سے فیصلے کرو خواہ فیصلہ کرتے وقت ایک فریق ایسا بھی ہو جو تمہارا دشمن ہو اور خواہ فیصلہ کرتے وقت ایک فریق ایسا بھی ہو جو تمہارا مذہبی دشمن ہو اور جس نے تمہیں تمہارے اس بنیادی حق سے بھی محروم کر دیا ہو کہ تم اول البیت میں جا کر خدا کے نام پر حج کرو۔اس سے زیادہ شدیدمذہبی دشمنی کا ایک مسلمان کے لئے کوئی تصور نہیں۔چنانچہ قرآن کریم مذہبی دشمنی کی مثال دے کر اس بات کو خوب کھول دیتا ہے کہ ہماری مراد یہ نہیں کہ معمولی دشمنی ہو بلکہ اتنی شدید نفرت ہو اس قوم کو تم سے کہ تمہیں حج بیت اللہ کی بھی اجازت نہ دیں۔ایسی صورت میں بھی جب تم انصاف کی کرسی پر بیٹھو تو انصاف سے کام لو یہ ہے شرعی عدالت کا جہاں تک معاملات کا تعلق ہے قرآنی نظریہ اس کے لئے تو کسی حد تک بلکہ مجبوری ہے انسان سے فیصلے کروانے پڑتے ہیں۔لیکن جہاں تک نظریات کا تعلق ہے نہ قرآن کریم اجازت دیتا ہے نہ اس کا کوئی تصور پیش کرتا ہے کہ نبی یا خدا کے سوا نظریات کا فیصلہ کسی اور سے کروایا جائے بلکہ اگر نظریات کے فیصلے کے لئے کسی اور کی طرف رجوع کیا جائے تو اس کے لئے میں قرآن کریم میں بہت سخت انذار پایا جاتا ہے۔چنانچہ اسی موضوع کے متعلق سورہ نساء میں ۶۱ ویں آیت میں قرآن کریم فرماتا ہے: أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ أَمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَّتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُضِلَّهُمْ