خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد۳ 602 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۸۴ء سے تعلق رکھتی ہیں اگر ان میں کمی ہو اور عورتوں کے سپرد کی جائیں تو اس میں بھی آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ بٹاتی ہیں۔تو یہ اعتراض تو عمل سے جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے کہ پردہ کے نتیجہ میں قوموں کے اندر کچھ ستی پیدا ہو جاتی ہے، ایک وجود کا حصہ معطل ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی وجود میں تو اس کے بالکل برعکس نمونے نظر آ رہے ہیں۔جو بے پردہ عورتیں ہیں ان کے رجحانات دنیا داری اور دنیا طلبی کی طرف زیادہ ہیں اور دوسرے مشاغل اور فیشن پرستیاں بھی ان کے اوپر برے رنگ میں اثر انداز ہوتی ہیں لیکن لجنہ کی پردہ دار خواتین اللہ تعالی کے فضل سے قربانی اور خدمت کے ہر معیار میں بہت ہی پیش پیش ہیں اور آزاد قوموں کی عورتوں کی کوئی تنظیم بھی اپنی مستعدی اور وقت کے بہترین مصرف کے لحاظ سے ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتی اور اصل جواب جو موجودہ دنیا میں اسلام پر حملوں کے ہیں وہ عملی لحاظ سے پیش کرنے چاہئیں اور وہی قابل قبول ہوا کرتے ہیں۔تو دفتر سوم میں لجنہ اماءاللہ نے اللہ تعالی کے فضل سے نمایاں کام کیا اور گزشتہ سال بھی میں نے محسوس کیا تھا کہ بہت ہی اچھا کام کیا ہے اور رغیر معمولی اضافہ کیا ہے وعدہ کنندگاں میں بھی اور چندوں کی مقدار میں بھی۔بجٹ سال 49 کا تمیں لاکھ روپے تھا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اگر چہ وسط اکتو بر تک صرف اکیس لاکھ روپے وصولی تھی لیکن سال کے آخر اور کچھ دن بعد تک تمہیں لاکھ سے بڑھ گئی۔اس مرتبہ بجٹ چالیس لاکھ رکھا گیا اور وسط اکتو بر تک ستائیس لاکھ اس ہزار (27,80,000 ) وصولی ہو چکی تھی اور اگر گزشتہ سال کی نسبت کوملحوظ رکھا جائے تو امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی یہ وصولی توقع سے بڑھ جائے گی۔بجٹ میں اضافہ امسال %33 کیا گیا تھا اور گزشتہ کے مقابل پر یہ اضافہ %29 تھا جو اللہ تعالی کے فضل سے پورا ہو چکا ہے۔دفتر اول، دفتر دوم اور دفتر سوم کے مواز نے بھی اعداد و شمار کی صورت میں موجود ہیں لیکن ان کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔صرف دفتر اول کے متعلق میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ دفتر اول سے متعلق میں نے یہ تحریک کی تھی کہ دفتر اول چونکہ ایک بہت ہی عظیم الشان تاریخی حیثیت کا دفتر ہے اس لئے جماعت اس دفتر کو کبھی بھی مرنے نہ دے یعنی وہ لوگ جنہوں نے سب سے پہلے اس تحریک کی قربانیوں میں عظیم الشان حصہ لیا تھا ہمارے ماں باپ یا بعضوں کے دادا ہوں گے اور ان لوگوں نے پہلا قدم اٹھایا ہے عظیم الشان نیکی کی طرف اور یہ تمام دنیا میں جو کثرت کے ساتھ جماعتیں پھیل