خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 595

خطبات طاہر جلد ۳ 595 خطبه جمعه ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۴ء لکھا اور ٹھیک لکھا اور میری یہی ان کو ہدایت تھی بلکہ میری ہدایت کا کیا سوال ہے میری ہدایت تو مانتے ہی کلمہ کی وجہ سے ہیں۔کلمہ کا رشتہ نہ ہو تو میں کیا چیز ہوں ان کی نظر میں؟ اسلئے بہر حال ہر احمدی کلمہ پڑھے گا، کلمہ لکھے گا، کلمہ اس کا اوڑھنا بچھونا ہوگا، کلمہ اسکی زندگی کی ہر رگ میں دوڑے گا۔چنانچہ ان پر اب با قاعدہ اس حکومت میں یہ مقدمہ درج ہوا ہے کہ احمدی کلمہ لکھ کر مسلمان بن رہے تھے اسلئے اس جرم میں ان کو تین سال کی سزاملنی چاہئے اور چونکہ ان کے یعنی بات تو سچی ہے کہ احمدیوں نے لکھا ہے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے لیکن چونکہ ان کے پاس کوئی گواہ نہیں تھا رات کو کسی نے لکھا اس لئے ان کی عادت یہ ہے کہ سچ بھی ہو تو اس میں جھوٹ کی ملونی ضرور ملانی ہوتی ہے۔چنانچہ تین آدمیوں کے نام چن لئے انہوں نے کہ یہ وہ آدمی ہیں جن کے اوپر ہم گواہی دلوائیں گے۔عجیب بیچاری قوم کا حال ہو گیا ہے کہ قسمت سے سچ بولنے کا موقع بھی ہاتھ آئے تو وہ بھی گنوا دیتے ہیں۔یہ کہہ دیتے کہ ٹھیک ہے کسی نے لکھا ہے ہم تحقیق کریں گے لیکن اوپر سے یہ لعنت بھی مول لے لی کہ جھوٹا الزام ان لوگوں پر لگایا جنہوں نے نہیں لکھا تھا لیکن وہ بھی عدالت میں پیش ہوں گے تو کہیں گے کہ اگر نہیں لکھا تو اب ہم لکھنے کے لئے تیار ہیں ابھی بھی ہم تمہارے سامنے یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد مصطفی علیہ ا سکے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کلمہ پڑھ کر ان کو گواہی دینی چاہئے عدالت میں۔پس اگر یہ فیصلہ کر لیا ہے قوم نے تو پھر کرے پھر تو یہ جیلیں تھوڑی رہ جائیں گی آپ کیلئے پھر تو آپ کو اور جیلیں بنانی پڑیں گی۔لیکن جس قسم کے تفرقات پھیل رہے ہیں مجھے تو ڈر ہے کہ اور بھی ہمارے پیچھے ایسے آنے والے ہوں گے جن کے ضمیر کچلے گئے ہیں ، جن کی زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔یہ تو اب رکنے والا معاملہ نہیں ہے اسلئے جو کچھ بھی ہوگا اور ایک احمدی بھی اس حالت میں نہیں مرے گا کہ وہ کلمہ مٹا رہا ہو۔ہاں اس حالت میں جان دے گا کہ کلمہ لکھتے ہوئے اس پر حملہ کی گیا اور کلمہ لکھنے کے نتیجہ میں اسے موت کی سزا ملی۔یہ ہے وہ مقام جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ اے محمد مصطفی ﷺ کے غلامو! تم نے محمد کے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔یہ ہاتھ تم نے نہیں چھوڑ نا خواہ یہ ہاتھ کاٹا جائے۔یہ ہاتھ تم نے نہیں چھوڑ نا خواہ