خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 576
خطبات طاہر جلد ۳ 576 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء کہ جب دنیا میں دکھ دیئے جاتے ہیں، ناجائز ظلم کئے جاتے ہیں خدا کے نام پر ہر قسم کے ستم ڈھائے جاتے ہیں اس وقت جو منہ سے بھی نہیں روکتا وہ فسادی ہے اور مصلحین وہی لوگ ہیں جو ظلم کی حالت میں جب بستیوں پر ظلم ہور ہے ہوں اس وقت وہ پھر اصلاح کی کوشش کیا کرتے ہیں۔تو بڑا کھول دیا ہے مضمون تا کہ کسی کو غلط فہمی نہ رہے۔فرماتا ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم ایک امت بنانے کے لئے زبردستی کر رہے ہیں ، ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کے لئے فتوں کی جڑیں کاٹ رہے ہیں تو فرمایا یہ تو اللہ کا کام ہے یہ تمہارا کام نہیں۔وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً تم کون ہوتے ہو امت واحدہ بنانے والے؟ اگر اللہ چاہتا تو سارے بنی نوع انسان کو ایک امت بنا دیتا۔کیا تمہارے ڈنڈے کا انتظار کر رہا ہے خدا تعالیٰ کہ تم ڈنڈے ہاتھ میں پکڑو تو خدا کی امت واحدہ بن جائے دنیا ؟ فرماتا ہے وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ ہم یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ جتنا مرضی زور لگا لیں ان کے اختلاف دور نہیں ہو سکتے کبھی کیونکہ جب تک خدا فیصلہ نہ کرے کہ ایک امت واحدہ بن جائے اس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں کہ انسان اپنے اختلاف دور کر لے۔دوسروں کو مارو گے کہ ہمارے اندر ملو اور امت واحدہ بنو ورنہ ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں جبکہ خود تمہارے اندر فتنے پھوٹ رہے ہوں گے ہم خود ایک دوسرے کے گھروں کو آگیں لگا رہے ہو گے، خود ایک دوسرے کی مسجد میں جلا رہے ہو گے، وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ تمہارا تو مقدرہی یہ ہے ، تم خدا سے دور جاپڑے ہو، تم مصلحین نہیں رہے، تم فساد کی باتیں کرتے ہو۔فساد تمہاری جزا ہے اور خدا یہ اعلان کر رہا ہے وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ تمہارے اختلاف کبھی ختم نہیں ہو سکتے آپس میں اب تم نے جھوٹ بول کر خدا کے نام پر اختلاف دور کرنے کا بہانہ بنا کر ظلم کی راہ اختیار کی ہے تمہاری سزا یہ مقدر کی گئی ہے وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ کیا عظیم کلام ہے! کسی باریک پہلو کو چھوڑتانہیں اور جو پیشگوئی کرتا ہے بعینہ پوری ہوتی چلی جاتی ہے۔کسی کا بس ہی نہیں کہ اس پیشگوئی کو ٹال سکے۔إِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ فرماتا ہے ہاں وہ لوگ جن پر خدا رحم کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے وہ ایک ہوا کرتے ہیں۔جن کو تیرا رب اسے محمد اعﷺ ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنے کا فیصلہ کرلے وہ ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جایا کرتے ہیں اور ان کے اندر پھر تو کوئی اختلاف نہیں دیکھے گا۔جن پر خدا نے رحم کیا