خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 575
خطبات طاہر جلد۳ 575 خطبه جمعه ۱۲ / اکتوبر ۱۹۸۴ء شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ظلم ہے یہ غلط ہے تو ینھون سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو طاقت بھی ضروری ہے۔فرماتا ہے اگر وہ منہ سے ہی کہنا شروع کر دیں کہ ہے ظلم اور یہ مناسب نہیں ہے یہ نہیں ہونا چاہئے تو اس کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان لوگوں کے ساتھ بخش دیا کرتا ہے اور نجات دیتا ہے جن کو نجات دینے کا اس نے پہلے سے فیصلہ کیا ہوا ہے۔وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا تُرِفُوْا فِيْهِ وَ كَانُوا مُجْرِمِينَ اور وہ لوگ جو ظالم ہیں، یہ تو شرفا کا حال ہے قوم کا کہ خاموش رہے اور روکا نہیں اور جو ظالم ہیں جو خدا نے ان کو نعمتیں ،آسائشیں دی ہو ئیں تھیں ان میں وہ ڈوبتے چلے گئے۔وَكَانُواهُجْرِ مِيْنَ اور وہ مجرم تھے۔اس حالت میں انہوں نے ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ ان کا حق نہیں تھا۔مجرم کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں پیدا نہیں کیں۔جب خدا کی نعمتوں کو کوئی بگاڑتا ہے اور جرم کرتا چلا جاتا ہے تو اس کا استحقاق ختم ہو جاتا ہے۔وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ظلم کی راہ سے ہلاک نہیں کیا کرتاؤ اَهْلُهَا مُصْلِحُونَ۔یہاں تعریف فرمائی ایک اور جو عام دنیا والے اپنے لئے کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں ان سے مختلف ہے۔یہ پہلی آیت کی روشنی میں تعریف کی گئی ہے سنو کہ روکنے والے ظلم کو اور شقاوت قلبی کو ختم کرنے والے یہ مصلحین ہوا کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے پہلے بھی اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (البقره: ۱۳) وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ہم تو زبر دستی روک رہے ہیں فتنہ پر داری سے ہم تو زبردستی لوگوں کے ایمان ٹھیک کر رہے ہیں، مار مار کر ان کے کلمے درست کرا رہے ہیں ، مار مار کر ان کو نمازیں پڑھوا رہے ہیں۔ہمیں کہتے ہو کہ ہم فسادی ہیں! فرماتا ہے: أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَّا يَشْعُرُونَ (البقره: ۱۴) بیوقوفو! سنو تم ہی فسادی ہو، اللہ جانتا ہے کہ تم فسادی ہو۔یہاں اس کی مزید تشریح فرما دی