خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 575 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 575

خطبات طاہر جلد ۳ 575 خطبه جمعه ۱۲ را کتوبر ۱۹۸۴ء شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ظلم ہے یہ غلط ہے تو يَنْهَوْنَ سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کو طاقت بھی ضروری ہے۔ فرماتا ہے اگر وہ منہ سے ہی کہنا شروع کر دیں کہ ہے ظلم اور یہ مناسب نہیں ہے یہ نہیں ہونا چاہئے تو اس کے نتیجہ میں بھی اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان لوگوں کے ساتھ بخش دیا کرتا ہے اور نجات دیتا ہے جن کو نجات دینے کا اس نے پہلے سے فیصلہ کیا ہوا ہے۔ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا تُرِفُوا فِيْهِ وَكَانُوا مُجْرِ مِينَ اور وہ لوگ جو ظالم ہیں، یہ تو شرفا کا حال ہے قوم کا کہ خاموش رہے اور روکا نہیں اور جو ظالم ہیں جو خدا نے ان کو نعمتیں ، آسائشیں دی ہوئیں تھیں ان میں وہ ڈوبتے چلے گئے ۔ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ اور وہ مجرم تھے۔ اس حالت میں انہوں نے ہماری نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی کہ ان کا حق نہیں تھا۔ مجرم کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے نعمتیں پیدا نہیں کیں ۔ جب خدا کی نعمتوں کو کوئی بگاڑتا ہے اور جرم کرتا چلا جاتا ہے تو اس کا استحقاق ختم ہو جاتا ہے۔ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ اللہ تعالیٰ کسی بستی کو ظلم کی راہ سے ہلاک نہیں کیا کرتا و أَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ۔ یہاں تعریف فرمائی ایک اور جو عام دنیا والے اپنے لئے کہتے ہیں کہ ہم اصلاح کرنے والے ہیں ان سے مختلف ہے۔ یہ پہلی آیت کی روشنی میں تعریف کی گئی ہے سنو کہ روکنے والے ظلم کو اور شقاوت قلبی کو ختم کرنے والے یہ مصلحین ہوا کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم نے پہلے بھی اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا: وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (البقره: ۱۳) وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔ ہم تو زبر دستی روک رہے ہیں فتنہ پرداری سے ہم تو زبردستی لوگوں کے ایمان ٹھیک کر رہے ہیں ، مار مار کر ان کے کلمے درست کرا رہے ہیں ، مار مار کر ان کو نمازیں پڑھوا رہے ہیں ۔ ہمیں کہتے ہو کہ ہم فسادی ہیں ! فرماتا ہے : أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ (البقره: ۱۴) بیوقو فو! سنو تم ہی فسادی ہو، اللہ جانتا ہے کہ تم فسادی ہو۔ یہاں اس کی مزید تشریح فرمادی