خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد ۳ 574 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء فَلَوْلَا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُوا بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الْأَرْضِ کاش ایسا کیوں نہ ہوا کہ تم سے پہلے جولوگ گزرے جو بستیاں آئیں ان میں صاحب عقل لوگ ہوتے۔عقل و دانش سے کام لیتے ، وہ دنیا کے اوپر نظر ڈال کر اسکے تجارب سے فائدہ اٹھانے والے ہوتے اور فساد سے روکنے والے بن جاتے۔اِلَّا قَلِيلًا مِّمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ مَگر ایسے لوگ بہت تھوڑے تھے اور ان کو ہم نے ان لوگوں کے ساتھ نجات عطا کر دی جن کو ہم نے نجات بخشنی ہی تھی یعنی مومن۔یہاں فساد کے روکنے والوں سے مراد ظالموں کی قوم میں سے صاحب عقل لوگ مراد ہیں۔إِلَّا قَلِيلًا مِّمَّنْ اَنْجَيْنَا مِنْهُمْ میں اس طرف اشارہ ہے کہ جن کو ہم نے نجات بخشی یعنی مومنین ان میں تھوڑے سے وہ بھی شامل تھے، ایسا تو ہوتا رہا لیکن قوم کی اکثریت نے فساد سے روکنے کا کام نہیں کیا۔اس میں ایک بہت بڑی گہری حکمت کی بات ہے اور وہ یہ کہ جب ظلم شروع ہو جائے کسی قوم کی طرف سے تو خدا تعالیٰ چونکہ متنبہ کر چکا ہے کہ ان کی ہلاکت کے دن پھر آیا کرتے ہیں۔اس وقت یہ عذر پھر خدا کے سامنے پیش نہیں ہوا کرتا کہ اے خدا! ہم تو ظلم کرنے والے نہیں تھے ، ہم تو پسند نہیں کرتے تھے اس بات کو۔فرمایا تمہاری ذمہ داری ادا نہیں ہوئی تم ان لوگوں میں سے کیوں نہیں ہوئے جنہوں نے فساد کو روکا؟ جب تم ظلم اور فساد کو دیکھتے ہوا گر تم نے اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی تو تمہاری ذمہ داری ادا نہیں ہوتی اس لئے جب پکڑ کا وقت آتا ہے تو ایسے لوگ بھی ساتھ مارے جاتے ہیں۔وہ یہ نہیں کہہ سکتے پھر کہ جی ہم تو شریف لوگ تھے ہم نے تو حصہ ہی نہیں لیا اور جب پکڑ کے وقت آتے ہیں تو ہر سطح پر یہی ہوتا ہے، کچھ لوگ جرم کر رہے ہوتے ہیں، کچھ خاموشی سے ان کا تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں، کچھ باہر کھڑے داد دے رہے ہوتے ہیں۔جب سزا ملنے لگتی ہے تو کہتے ہیں جی ہم تو نہیں شریک اس نے مارا تھا میں نے تو نہیں مارا تھا اور بعض فرقے بھی پھر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ جی فلاں فرقے والے تھے ہم تو نہیں تھے۔تو اللہ تعالیٰ نے قانون ہی وہ رکھ دیا بچنے کا جس میں منہ کی باتیں کام نہیں آسکتیں۔جس میں اتنا کردار ہے ، اتنی مردانگی ہے، اتنی شرافت ہے کہ وہ بدی کو دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا اور اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتا تو منہ سے کم سے کم اس کے خلاف اعلان کرنا