خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 559
خطبات طاہر جلد ۳ 559 خطبه جمعه ۵ را کتوبر ۱۹۸۴ء 중 لیکن اس دوران وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتٰبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ احسن طریق پر یہ کام کرنا۔ مجادلہ جو قرآن کریم میں آتا ہے بار بار اس کا ذکر یہ تبلیغ کے معنوں میں آتا ہے۔ اس سے مراد تلوار کا جہاد نہیں ہے بلکہ جہاں جہاں تبلیغ کے مضمون کا ذکر ہے وہاں لفظ مجادلہ استعمال ہوا ہے۔ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل : ۱۲۶) جس طرح فرمایا وہاں بھی تبلیغ ہی کا مضمون ہے فرماتا ہے۔ وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتٰبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ وہی مضمون ہے دوسر - رنگ میں پیش فرمایا گیا ہے کہ تم ہرگز اہل کتاب سے مجادلہ نہ کروان کو تبلیغ نہ کرو مگر نہایت احسن رنگ میں إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ سوائے ان لوگوں کے جوان میں سے ظلم کرتے ہیں ۔ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلهُنَا وَالْهُكُمْ وَاحِدٌ وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ اب سوال یہ ہے کہ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا کا کیا مطلب ہے؟ وہ لوگ جو ان میں سے ظلم کرتے ہیں ان کو احسن رنگ میں تبلیغ نہ کرو۔ کیا یہ معنی ہے؟ تبلیغ تو بہر حال احسن رنگ میں ہوگی لیکن إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا کے نتیجہ میں وہ کیا استثنا فرمایا گیا ہے ان سے کیا طریق کار اختیار کرو؟ اس کو قرآن کریم میں اللہ تعالی ایک دوسری جگہ بیان فرماتا ہے: لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا عَلِيمًا إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوا قَدِيرًا (النساء:۱۴۹-۱۵۰) فرماتا ہے لَا يُحِبُّ اللهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ کہ جب تم تبلیغ کرو گے تو تمہاری دل آزاری کی جائے گی اور نہایت گندے بول تمہارے اوپر بولے جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ نہایت ہی دل آزار باتیں تمہارے ایسے پیاروں کے متعلق کہی جائیں جن کو تم برداشت نہ کر سکو۔ ایسے موقع پر کیا ہدایت ہے؟ لَا يُحِبُّ اللهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالی اونچی آواز میں بد کلام کو پسند نہیں کرتا إِلَّا مَنْ ظلم سوائے اس کے کہ ایک مظلوم کے منہ سے بے اختیار کوئی کلمہ نکل جائے یعنی پسند اس کو بھی نہیں کرتا ۔ لَا يُحِبُّ اللهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ ایک عام قانون ہے کہ پخش کلامی ، دل آزاری ، لوگوں کو زبان کے ذریعہ دکھ پہنچانا اور پھر ان باتوں کی