خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 557 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 557

خطبات طاہر جلد۳ 557 خطبه جمعه ۱٫۵ اکتوبر ۱۹۸۴ء ہے؟ اس کا طریق آگے بیان ہوا اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَأَقِمِ الصَّلوةَ اگر تم حق بننا چاہتے ہو تو اے محمد ﷺ انہیں یہ نمونہ دکھا اس چیز کی بکثرت تلاوت کر جو تجھ پر نازل کی گئی ہے اور قرآن کریم پر غور کرتارہ اور اسکے مطالب کو سمجھ پھر تجھے حق کی حقیقت معلوم ہوگی اور وہ طریق معلوم ہوں گے جن سے انسان حق کی طرف حرکت کرتا ہے۔وَأَقِمِ الصَّلوۃ اور اس کے لئے ایک بہت بڑا ذریعہ عبادت ہے۔اگر خدا کی عبادت کرو گے تو خدا کی طرف تمہارا سفر شروع ہو جائے گا اور بالآخر عبادت تمہیں حق تک پہنچا دے گی اور حق تک پہنچنے کے رستے میں جو روکیں ہیں وہ بھی عبادت کے ذریعہ دور ہونگی۔اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ فحشا اور ناپسندیدہ امور اور ظالمانہ طریق یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو حق تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں۔جن کا جھوٹ سے تعلق ہے، باطل سے تعلق ہے۔فرمایا دو باتیں ہوں گی اقامتہ الصلوۃ کے ذریعہ تم اللہ تعالیٰ تک پہنچو گے اور یہی عبادت تمہارے رستے کی روکیں بھی دور کرے گی اور تمہارے نفس کے اندر جو کبھی ہے جو تمہیں حق تک پہنچنے سے روکتی ہے اس کو بھی یہ سیدھا کرتی چلی جائے گی وَلَذِكْرُ الله اکبر اور اللہ کی یاد سب سے بڑی ہے۔بعض صوفیا اس آیت کا یہ غلط مفہوم لیتے ہیں۔نہ وہ پہلی آیت کا مفہوم سمجھتے ہیں اور نہ اس آیت کا اور بالآخر اس آیت میں جو ارتقا پیش کیا گیا ہے اسکونہ سمجھنے کے نتیجہ میں ان کی طرف سے ایک خلاف اسلام طریق اختیار کر لیا گیا ہے۔وہ صوفیا یہ کہتے ہیں کہ نماز کا مقصد کیا ہے برائیوں سے روکنا اور منکر سے روکنا۔لیکن ذکر اللہ نہیں ہے یہ اصل میں ، ذکر اللہ اسکے علاوہ ہے اور ہم جو ذکر کرتے ہیں یہ عبادت سے افضل ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم فرماتا ہے وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ اسے نماز کے علاوہ پیش کیا گیا ہے۔پہلے عبادت کا مضمون بیان ہوا اسکی پہنچ بتا دی گئی کہاں تک ہے؟ عبادت تو بس اتنا کام کرے گی کہ فحشا اور منکر سے روک دے گی لیکن اصل عظیم الشان جوطریق ہے اللہ تعالیٰ کو پانے کا وہ ذکر ہے۔چنانچہ وہ نئے نئے ذکر ایجاد کرتے رہتے ہیں اور نماز سے زیادہ ایک الگ ذکر بنا کر اسکو اہمیت دیتے ہیں حالانکہ ہرگز یہ مراد نہیں ہے۔یہ تو ایک سفر بتایا جارہا ہے کس طرح تم حق کی طرف سفر شروع کرو گے اور نماز ہی کی یہ صفت بیان ہوئی ہے وَلَذِكْرُ اللهِ أَكْبَرُ کہ عبادت کے ذریعہ صرف تمہیں منفی پہلوؤں سے نجات نہیں ملے گی بلکہ ایک عظیم الشان کامیابی تک پہنچ جاؤ گے