خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 556
خطبات طاہر جلد ۳ 556 خطبه جمعه ٫۵اکتوبر ۱۹۸۴ء امر واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنا نام حق ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو حق کے طور پر پیش کرتا ہے اور اس موقع پر حق کی نفی فرما دیتا ہے۔هُوَ الْحَقُّ ، اللہ ہی ہے جو حق ہے اس کے سوا کوئی چیز حق نہیں اور آنحضرت مہ کو بھی حق فرمایا گیا قرآن کریم میں اور قرآن کریم کو بھی حق فرمایا گیا اور یوم آخرت کو بھی حق فرمایا گیا تو اللہ تعالیٰ اس طرف متوجہ فرمانا چاہتا ہے کہ تم کائنات کا راز سمجھنا چاہتے ہو تو اس بات کو سمجھ لو کہ اس کا آغاز بھی حق ہے اور اس کا انجام بھی حق ہے یعنی سچائی کے ساتھ پیدا کیا ہے ایک بچے کی طرف سے روح نازل ہوا ہے، ایک کچی روح پر نازل ہوا ہے، ایک سچی کتاب میں اسکی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے اور تمہیں اس انجام تک پہنچائے گا جسے یوم الحق کہا جاتا ہے۔ذلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ (النبا : ٤٠) جس طرح سورۃ النبا میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یعنی وہ آخرت کا دن جس دن حساب کتاب ہوگا۔اگر تم اس بات پر غور کرو تو پھر تمہیں ایک بہت بڑی حقیقت معلوم ہو جائے گی جس میں تمہاری بقا کا راز بھی ہے اور فنا سے بچنے کے دلائل بھی ہیں۔تم حق سے اپنا تعلق جوڑ لو تو یہ زمین و آسمان تمہارے ہو جائیں گے۔تم حق کے ہو جاؤ تو ساری کائنات کی چابیاں تمہارے ہاتھوں میں پکڑا ئی جائیں گی کیونکہ اول سے آخر تک تخلیق کا مقصد ہی حق کی پیدائش ہے، حق نے پیدا کیا حق بات کی خاطر پیدا کیا، حق طریق پر پیدا کیا جق وجود پر نازل کیا گیا حقیقت آسمانی اور زمینی کو اور بالآخر اس کا انجام بھی حق پر جا کر ختم ہوگا۔حق کیا ہے؟ اس کی مزید تفصیل پر آپ غور کریں تو ایک بہت بڑا مضمون قرآن کریم میں بکثرت آیات میں حق کے اوپر پھیلا ہوا ہے بحث فرمائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ حق کیا چیز ہے اور کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے؟ لیکن صرف مختصراً اس وقت اس کا ایک عرف عام کا جو معنی ہے یعنی سچائی اس کی طرف میں متوجہ کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سچائی کو اختیار کر لو اور سچائی کو پکڑ کر بیٹھ جاؤ اور کسی حال میں بھی سچائی سے الگ نہیں ہونا۔اگر تم سچے ہو جاؤ گے تو زمین و آسمان کی پیدائش کے مقاصد میں سے ایک مقصد بن جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ مقاصد کو ضائع نہیں کیا کرتا اور مقاصد کی حفاظت فرماتا ہے اور ہر اس طاقت کو توڑ دیتا ہے جو مقاصد کے اوپر حملہ کرتی ہے اور تمہارے لئے ایک ہی طریق ہے فتحیاب ہونے کا اور ہمیشہ کی زندگی پانے کا کہ تم حق بن جاؤ اور حق کو اختیار کر لو اور اس کا طریق کیا