خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 555
خطبات طاہر جلد ۳ 555 خطبه جمعه ۵/اکتوبر ۱۹۸۴ء میں تو صرف ظاہری زمین و آسمان مراد نہیں بلکہ روحانی اور باطنی زمین و آسمان بھی مراد ہیں۔جب انبیاء آتے ہیں تو نئے آسمان پیدا کئے جاتے ہیں ، نئی زمینیں ان کو عطا کی جاتی ہیں اور تمام قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہی مضمون ایک جس طرح متوازی خطوط چل رہے ہیں جس طرح صرف ظاہری تخلیق پر ہی حاوی نہیں بلکہ روحانی تخلیق پر بھی حاوی ہے۔تو زمین و آسمان کی تخلیق میں جو لا انتہا نشانات ہیں اسی طرح روحانی دنیا کی تخلیق میں بھی لا انتہا نشانات ہیں اور ان دونوں کو اکٹھا کر کے ایک ہی نشان کے طور پر پیش کر کے فرمایا إِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ اس میں مومنوں کے لئے ایک نشان ہے۔تو مراد یہ نہیں ہے کہ ان سارے نشانات کا احاطہ کیا جا رہا ہے یا ان کی فہرست گنائی جانی مقصود ہے۔مراد یہ ہے کہ اگر تم مومن ہو اور اس بات پر غور کرو کہ حق کے ساتھ پیدا کیا ہے تو تمہیں اس میں حکمت اور فلسفے کا ایک عظیم الشان راز ملے گا۔ایک ایسا قیمتی را ز تمہیں اس سے ملے گا کہ تمہارے سارے مسائل اس راز کو سمجھنے کے نتیجہ میں دور ہو سکتے ہیں تو تمہارے لئے ایک بہت بڑا فائدہ کی چیز ہے یہاں یہ مراد ہے ان امور پر غور کرنا تمہارے لئے ایک بہت ہی عظیم الشان فائدہ رکھتا ہے، بہت ہی عظیم الشان راز ہے جو تمہاری مشکلات کوحل کر دے گااور اس کے بعد فرماتا ہے اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَاَقِمِ الصَّلوةَ تجھ پر جو کچھ وحی کی گئی ہے اس کو پڑھتا رہ، اس کی تلاوت کر اور اس پر غور کر وَأَقِمِ الصَّلوةَ اور نماز کو قائم کر۔سوط إِنَّ الصَّلوةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ اور نماز فحشا سے منع کرتی ہے اور نا پسندیدہ باتوں سے منع کرتی ہے وَلَذِكْرُ اللہ اکبر اور اللہ کا ذکر اس سے بڑا ہے وَاللهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔اب اس کا بظاہر پہلے مضمون سے کوئی تعلق نہیں۔کہاں یہ بات کہ زمین و آسمان کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا حق کے ساتھ اور اس میں ایک نشان ہے تمہارے لئے اور کہا اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَبِ وَأَقِمِ الصَّلوۃ۔لیکن جب آپ اس مضمون کو سمجھیں کہ تخلیق السموات والارض سے اصل مراد اول مراد روحانی کتاب میں روحانی تخلیق ہوا کرتی ہے اور جب حق کے مضمون پر آپ غور کریں تو پھر آپ کو اس کا ایک گہرا تعلق سمجھ آجائے گا۔