خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 548
خطبات طاہر جلد ۳ 548 خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۸۴ء سوال نہیں کرتے بچتے ہیں سوال سے اس وجہ سے اغنیاء سمجھ لیتے ہیں یعنی امیر سمجھ لیتے ہیں لیکن ایک اور معنی بھی اس آیت کا ہے اور وہ اصل اور حقیقی ہے اور جو پہلی آیات گزری ہیں ان کے ساتھ مطابقت کھانے والا معنی ہے۔تعفف کا معنی ہے پاکیزگی جو فحشا کا برعکس ہے اور تعفف کا معنی ہے مستغنی ہونا یعنی کسی دوسرے کے احتیاج سے آزاد ہو جانا۔تو یہاں الہبی جماعتوں کا ایک حیرت انگیز نقشہ کھینچا گیا ہے جو شیطانی کوشش کے بالکل برعکس ہے اور یہ اسی آیت کی ایک برعکس تصویر کھینچی گئی ہے جو پہلے گزرگئی ہے کہ شیطان تمہیں فحشا کی تعلیم دیتا ہے اور فقر سے ڈراتا ہے کہ تم نے تو فحشا کی زندگی اختیار کرنی ہے میں تمہارے دل میں تمنائیں پیدا کر چکا ہوں اور فقر اس کی راہ میں حائل ہو جائے گا اس لئے بچاؤ اور ایسے لوگ اپنی غربت کے ڈھنڈورے پیٹنے لگ جاتے ہیں بعض دفعہ اس ڈر کے مارے بیچارے کہ کوئی ہم سے مانگ نہ بیٹھے۔کہتے ہیں جی اتنا نقصان ہو گیا لوگ کیا سمجھتے ہیں وہ لوگ سمجھتے ہیں جی بڑی تجارتیں ہیں یہ نہیں نا پتہ کہ آگے سے نقصانات کتنے کتنے ہوتے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں بڑی تنخواہ مل رہی ہے لیکن پھر ٹیکس، پھر اخراجات ، پھر سفید پوشیاں۔اچھا بھلا خدا نے رزق عطا کیا ہوتا ہے اور وہ تعفف وہ بھی اختیار کرتے ہیں برعکس قسم کا۔فقر سے ڈر کر وہ خود اپنے فقر کے ڈھنڈورے پیٹتے رہتے ہیں کہ کہیں غریب نہ ہو جائیں اس لئے کیوں نہ خود ہی اپنے آپ کو غریب کہنا شروع کر دیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ جاہل دیکھو اپنے آپ کو خود فقیر بنا کر ظاہر کر رہے ہیں کہ مارے جائیں گے اگر ہم خرچ کریں گے یہ جو فرمایا ہے يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ شیطا تمہیں فقرے ڈراتا ہے اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو فقیر ظاہر کرتے ہیں ڈر کے مارے کہ ہم فقیر نہ ہوجائیں۔دوسری طرف کچھ غریب بندے ہیں خدا کے اس کے در کے فقیر لیکن وہ اتنے پاک باز ہو چکے ہیں کہ ان کی ضروریات سکڑ گئی ہیں۔نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے زندگی کی زائد ضروریات میں ان کو دلچسپی نہیں ہے اور اس کی وجہ سے انہیں ایک اور تعفف نصیب ہوتا ہے یعنی فحشا کے برعکس ایک ہی لفظ رکھا جس نے دونوں معنی پیدا کر دیئے ، فحشا کے خلاف مضمون بھی ادا کر دیا اور فقر کے خلاف بھی مضمون دے دیا اس لفظ میں اور وہ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی عصمت، اپنی پاکیزگی، اپنی قناعت نفس کی بنا پر امیر ہو جاتے ہیں۔وہ دنیا کی احتیاج سے باہر نکل جاتے ہیں ان کو سوال کی حاجت ہی نہیں