خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 530
خطبات طاہر جلد ۳ 530 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء آگ بھڑک رہی ہے۔وہ مقام جہاں پانچ بار اللہ اکبر اللہ اکبر کی ندا بلند ہوتی تھی وہاں اب بغیر آذان کے باجماعت نماز کے لئے لوگ جوق در جوق جاتے اور مسجدوں کو بھر دیتے ہیں۔خدا کے حضور یہ عاجز بندے گڑ گڑاتے اور فریادیں کرتے ہیں۔حیران حیران چہرے ہیں، بھولی بھولی آنکھیں مگر آتش غم سے ان کی روتی ہوئی آنکھیں انار کی طرح سرخ ہو چکی ہیں۔“ ایک ربوہ کے ہمارے ڈاکٹر وہ ایک مریض کا حال لکھتے ہیں یہ بھی بڑا عجیب ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو ایک عجیب عشق و محبت کے دور سے گزار رہا ہے جو صدیوں کے مجاہدوں سے بھی حاصل نہیں ہوسکتا تھا، کیفیتیں ہی پلٹ گئی ہیں، ایک عظیم روحانی انقلاب بر پا ہو رہا ہے اور اس کے مقابل پر سَبِيْلُ الْمُجْرِمِينَ کھل کر الگ ہوتی چلی جارہی ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ایک ایسا عجیب میری زندگی کا واقعہ گزرا ہے جو میں لکھنے پر مجبور ہوں۔ایک بوڑھا غریب مریض جان کنی کی حالت میں تھا ہسپتال لایا گیا اور فورا اس کو آکسیجن لگائی گئی یہ پتہ نہیں تھا کہ بیچ سکے گا کہ نہیں مگر اللہ نے فضل کیا اور کچھ دیر کے بعد اسے ہوش آیا۔ہوش آنے پر اس نے پہلا سوال یہ کیا کہ کیا حضور خیر بیت سے ہیں اور کب آئیں گے؟ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اس فقرہ نے جو میرے دل کا جو حال کیا سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا۔وہ شخص جو اپنی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا ہوش آنے کے بعد اس کا پہلا سوال یہ تھا اور پہلا فکر یہ تھا۔ایک خاتوں لکھتی ہیں کہ خدا گواہ ہے کہ انتیس اپریل کو میرے پیارے ابا جان کی وفات ہوئی مجھے اس کا غم نہیں تھا بس غم تھا تو اپنے پیارے امام کا۔لوگ مجھے میرے والد کے بارے میں بتاتے تھے پنجاب سے آکر کہ وہ بڑے پر نور اور پر وقار تھے اور مرنے کے بعد وہ نہایت ہی نورانی چہرہ تھا مگر بے چین ہو کر یہ پوچھتی تھی کہ ربوہ کا حال بتاؤ ، حضور کا حال بتاؤ، دل غم کی شدت سے معلوم ہوتا تھا پھٹ جائے گا۔حضور یہ نا چیز نہایت ہی عاجزی سے درخواست کرتی ہے کہ خدا گواہ ہے کہ میرے پاس اس وقت نہ کوئی زیور نہ کوئی پیسہ ہے مگر ایک مشین ہے جس کی قیمت پانچ ہزار ہے وہ میں چندہ میں دیتی ہوں خدا را قبول کریں اور دعا کریں کہ خدا تعالیٰ اسے قبول فرمائے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ یہ نہیں فرما تا کہ یہ ابتلا میں ڈالے گئے ہیں۔یہ عظیم الشان کلام الہی ہے بلکہ یہ فرمارہا ہے کہ جو ان پر ظلم کرنے والے ہیں وہ ابتلا میں ڈالے گئے ہیں اور