خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 519

خطبات طاہر جلد ۳ 519 خطبه جمعه ۱۴ ستمبر ۱۹۸۴ء ڈال دیتے ہیں ضد کرنے والوں کو ان کو اختیار ہی نہیں رہتا۔ کہتے ہیں اچھا یا فیصلہ تم کرو اور ہمیں اجازت دو کہ ہم جو حصہ چاہیں اٹھا لیں یا ہم سے فیصلہ کر والو اور تم پھر اٹھا لو جو چاہو۔ یہ انصاف کا ایک عام طریق ہے جس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ بڑے سے بڑا ضدی بھی اگر ایک دفعہ یہ بات مان جائے تو وہ قابو آجاتا ہے تو چونکہ آپ سے ہم نے فیصلہ کروایا ہے اس لئے ہمیں پھر اپنا حصہ تو اٹھانے دیں۔ آپ تو کہتے ہیں برابر کی تقسیم ہے تو پھر اب اختیار ہمیں ملنا چاہئے کہ کون سا تم اپنے لئے قبول کرتے ہو۔ تو ہم تو پھر یہی قبول کریں گے کہ جو تم ظلم سمجھ مجھ رہے رہے ہو وہ ہمارے حصے حصے ڈال ڈا دو۔ ظلم میں نے کیوں کہا؟ وہ اس لئے کہ بعض علما یہ اعلان کر رہے ہیں اور اخباروں میں چھپ رہا ہے کہ احمدیوں کے ساتھ ظلم نہیں ہوا، مسلمانوں یعنی ان کے ساتھ ظلم ہو گیا ہے۔ تو اگر یہ فیصلہ ابھی بھی اتنا پورا نہیں ہوا ان کے نزدیک ابھی اتنا شدید نہیں ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ جو فیصلہ ہوا ہے اصل بات یہ ہے اس میں کہ احمدی خواہ مخواہ شور مچاتے ہیں کہ ظلم ہو گیا ہے ظلم ہوا ہے مسلمانوں کے ساتھ یعنی ان کے ساتھ اور احمدیوں کو حق سے زیادہ مل گیا ہے۔ تو پھر تقسیم کر لو، ہمیں مظلوم بنادو جس کو تم ظلم سمجھتے ہو اور آپ ظالم بن جاؤ اپنی اصطلاح میں ہمیں منظور ہے اور پھر ا گلے فیصلے بھی جو کرنے ہیں وہ بھی اسی حساب سے کرتے چلو جاؤ۔ تو اگر دنیا کے عام انصاف کے طریق کو اختیار کیا جائے تو کوئی مسئلہ مشکل رہتا ہی نہیں لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ ہر فیصلہ جہالت کا کہیں یا ظلم کا کہیں وہ خدا کے نام پر کیا جا رہا ہے۔ یہ ہے سب سے بڑی تکلیف کہ اسلام اور شریعت کو ایسا بد نام کیا جا رہا ہے کہ ساری دنیا میں اگر یہ باتیں دنیا کے سامنے رکھی جائیں تو حیران ہو کر دیکھتے ہیں بعض ان کو تسلیم بھی نہیں کرتے۔ لاء کمیشن کے سامنے جب ایک وفد پیش ہوا، انہوں نے کہا یہ باتیں ہوئی ہیں تو وہ تو مانتے ہی نہیں تھے شروع میں ۔ کہتے تھے ہو سکتا ہی نہیں، یہ ناممکن ہے اس زمانہ کے انسان کی عقل میں ایسی بات آہی نہیں سکتی۔ محمد یہ کے نام پر تو یہاں تک پہنچ گئے ہو تم لوگ ۔ حد ہوتی ہے گراوٹ کی ، انصاف کے نام پر ظلم اور شریعت نام پر یہ اندھیر نگری نعوذ باللہ من ذلک۔ جو کچھ کہنا ہے اپنی طرف سے کہو اپنے دل کی تاریکی کو قرآن کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو؟ ہم جو اسلام کی خدمت کرنے والے ہیں ، ہم جو تمام دنیا میں اسلام کی تبلیغ کرنے والے ہیں تم پشت پر سے بھی ہمیں چھرے گھونپیو اور آئندہ آگے بڑھنے کے