خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 518 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 518

خطبات طاہر جلد ۳ 518 خطبه جمعه ۴ ارستمبر ۱۹۸۴ء ہیں کہ انسانوں جیسی کوئی حرکت نہیں کرنی۔چارہ پٹھا کھاؤ، چار پاؤں پر چلو بجائے دو ٹانگوں کے، انسانی زبان سے کام نہیں لینا ، انسان جیسی حرکتیں کوئی نہیں کرنی ، اگر انسان جیسی حرکتیں بھی کرو گے تو تمہیں زنجیروں سے باندھ دیا جائے گا اور کم سے کم تین سال پھر گلیوں میں پھرنے نہیں دیا جائے گا۔انسان جیسے لباس نہیں پہنے، انسان جیسا معاشرہ اختیار نہیں کرنا۔ہم تو صرف اتنا کہہ رہے ہیں اور تم پاگلوں کی طرح ساری دنیا میں بدنام کر رہے ہو کہ ہمیں حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔الٹا ہمیں کہتے ہیں کہ تم بڑے جاہل ہو جھوٹے الزام لگا رہے ہو کہ ہم تمہیں حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ہم تو کہتے ہیں بے شک انسان سمجھتے رہو اپنے آپ کو بس اتنی سی بات ہے کہ انسان جیسی باتیں کوئی نہیں کرنی یہ کس طرح حقوق سے محرومی ہو گئی؟ یہ اعلان ہوا ہے شریعت کی کورٹ سے۔آیا یہ درست ہے عقل اور انصاف کے مطابق ہے اس کا فیصلہ کیسے ہوگا ؟ آپ کی عقلیں جو سوچ رہی ہیں وہ تو ان کی عقلیں نہیں ہیں۔اگر وہ ایسا سوچیں تو ہو سکتا تھا کہ ایسا جاہلانہ فیصلہ کرتیں اس لئے خطبہ سننے والے جو مسکرا رہے ہیں ان سے میں کہتا ہوں کہ وہ عقلیں اور قسم کی ہیں ان کو ان باتوں کی سمجھ نہیں آرہی اگر سمجھ آ رہی ہوتی یہ فیصلہ ہی نہ دیتی۔ان کیلئے ایک اور طریق ہے وہ میں ان کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ اگر واقعی یہ انصاف ہے تو ہم سے تبادلہ کر لو انصاف کا۔آج کے بعد تم اپنے آپ کو مسلمان سمجھو لیکن مسلمان کہنا نہیں اور ہم کہیں گے کہ ہاں دیکھو کیسا عمدہ انصاف ہوا ہے۔آج کے بعد تم عبادت اپنے اوپر فرض سمجھو اور قرآن کریم کی اطاعت فرض سمجھو اور اذانیں دینی بند کر دو اور پھر ہم کہیں گے کہ دیکھو کیسا عمدہ انصاف ہے! ہم تو تمہیں کہتے ہیں کہ بعینہ انصاف کے مطابق ہم تمہیں یہ انصاف دے رہے ہیں کہ مسلمان بے شک سمجھو کہنا نہیں۔تم بے شک آنحضرت عمے کو واجب التعمیل سمجھو لیکن حکم بالکل نہیں ماننا، کسی سنت پر کسی حدیث پر عمل نہیں کرنا، کسی نصیحت کو نہیں ماننا اور پھر ہمیں یہ نہ کہنا کہ نا انصافی ہوئی ہے کیونکہ تمہارا فیصلہ ہے کہ یہ نا انصافی نہیں ہے مسلمان کا حق مل گیا۔اگر انصاف ہے تو پھر انصاف میں تو تبادلے ہو جایا کرتے ہیں۔اگر کسی کو تقسیم کے لئے دیا جائے اور وہ تقسیم ٹھیک نہ کرے تو پھر عام دنیوی طریق کے مطابق کہتے ہیں بہت اچھا اگر تم سمجھتے ہو ٹھیک ہے تو بانٹ لیتے ہیں ہم آپس کی تقسیم تم میری لے لو میں تمہاری لے لیتا ہوں۔زمیندارا کثر اسی قسم کے فیصلے کرتے ہیں اور وہ ایسی مشکل میں