خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 46
خطبات طاہر جلد ۳ 46 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء تو بہ میں ایک مخفی عہد بھی ہوتا ہے کہ فلاں گناہ میں کرتا تھا اب آئندہ وہ گناہ نہیں کروں گا ۔ اصل میں انسان کی خدا تعالیٰ پردہ پوشی کرتا ہے کیونکہ وہ ستار ہے۔ بہت سے لوگوں کو خدا تعالیٰ کی ستاری نے ہی نیک بنا رکھا ہے ورنہ اگر خدا تعالیٰ ستاری نہ فرمادے تو پتہ لگ جاوے کہ انسان میں کیا کیا گند پوشیدہ ہیں“ ۔ ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ: ۶۰۸ ) پھر فرمایا : خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم گمراہ ہو پر جسے میں ہدایت دوں تم سب اندھے ہو مگر وہ جس کو میں نور بخشوں ، تم سب مردے ہو مگر وہی زندہ ہے جس کو میں روحانی زندگی کا شربت پلاؤں ۔ انسان کو خدا تعالیٰ کی ستاری ڈھانکے رکھتی ہے ورنہ اگر لوگوں کی اندرونی حالت اور باطن دنیا کے سامنے کر دیئے جاویں تو قریب ہے کہ بعض بعض کے قریب تک بھی جانا پسند نہ کریں۔ خدا تعالیٰ بڑا ستار بھی ہے۔ انسانوں کے عیوب پر ہر ایک کو اطلاع نہیں دیتا۔ پس انسان کو چاہئے کہ نیکی میں کوشش کرے اور ہر وقت دعا میں لگار ہے۔“ ( ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) پس پیشتر اس کے کہ عفو اور ستاری سے ہماری بے اعتنائی اور بے پرواہی ہمیں اس مقام تک پہنچادے جس مقام کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے۔: وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُونِهِ مِنْ وَالِ کہ اللہ تعالیٰ جب فیصلہ یہ کر لیتا ہے کہ کسی قوم نے میری حسنات کو چھوڑ دیا اور برائیوں نے ان کے اندر راہ پالی اور وہ اس مقام تک پہنچ گئی ہیں کہ اب نعمت کو میں ان سے کھینچ لوں ۔ پھر جب خدا سزا دینے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سزا سے دنیا میں کوئی کسی کو بچا نہیں سکتا ۔ تو ہم نے تو ساری دنیا کو اس سزا سے بچانا ہے اس لئے بہت کوشش کریں اور بہت محنت کریں۔ یہ چیزیں ایسی نہیں ہیں جو تکلیف دینے والی ہوں یہ دونوں صفحات ایسی ہیں جو لطف دینے والی ہیں ۔ کتنا نادان ہے وہ شخص جو ان