خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 507 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 507

خطبات طاہر جلد ۳ 507 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۸۴ء پاکستان مظلوم ہے۔ پاکستان ظالم نہیں ہے، پاکستان پر ایسے حاکم قابض ہیں جو نہ پاکستانی کہلانے کا حق رکھتے ہیں نہ مسلمان کہلانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ ملک کے خلاف بھی ظالمانہ فیصلے کر رہے ہیں اور مذہب کے خلاف بھی ظالمانہ فیصلے کر رہے ہیں۔ آنکھیں کھول کر جھوٹ بول رہے ہیں اور ہر بدی میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ اس لئے غریب ملک کو کیوں آپ ظالم کہتے ہیں یا ظالم کہنا برداشت کرتے ہیں؟ ہر جگہ جہاں جہاں احمدی ہے اس کا فرض ہے انصاف کے تقاضے کے لحاظ سے بھی اور احسان مندی کے تقاضے کے لحاظ سے بھی کہ کسی جگہ پاکستانی قوم کے اوپر ظلم کے داغ کو برداشت نہ کرے۔ وضاحت کرے کہ جھوٹ بولا جا رہا ہے اگر یہ کہا جا رہا ہے ۔ ہم مظلوم ہیں لیکن پاکستان کے مظلوم نہیں ان لوگوں کے مظلوم ہیں جن کا سارا پاکستان مظلوم ہے۔ صرف فرق یہ ہے کہ ہم پر زیادہ ظلم ہو رہے ہیں ان پر کم ہورہے ہیں۔ لیکن ایک پہلو سے وہ ہم سے بھی زیادہ مظلوم بن جاتے ہیں۔ ان کا والی کوئی نہیں ،ان کے اوپر خدا کی وجہ سے ظلم نہیں ہور ہے ، خدا کے نام پر ظلم نہیں ہور ہے اس لئے وہ ان قوموں کی صف میں کھڑے ہیں جن میں بعض دفعہ ہزار ہا ظلم ہوئے اور سال ہا سال ظلم ہوتے رہے مگر کبھی ان کی شنوائی نہیں ہوئی ۔ بعض قوموں پر ایک ایک ہزار سال کے مظالم ہوئے ہیں۔ اس لئے اگر بنظر غور دیکھیں تو پاکستانی جو غیر احمدی ہیں وہ آپ سے ہزاروں گنا زیادہ مظلوم ہیں ۔ ان کا کوئی والی کوئی وارث نہیں ہے۔ وہ بچارے بھیڑ بکریوں کی طرح مظالم کا نشانہ بنائے جارہے ہیں اور کوئی مستقبل کی امید ان کو نظر نہیں آرہی ۔ احمدی کو تو مستقبل ہی نظر نہیں آرہا بلکہ ایک شاندار ماضی بھی نظر آ رہا ہے اپنی ضمانت کے طور پر۔ وہ جانتا ہے کہ ہم اس خدا خدا کے کے نام نام پر پر ظلمو ظلموں کا نشانہ بنائے جارہے ہیں جو زندہ خدا ہے، غیور خدا ہے، اس نے کبھی پہلے ہمیں بے سہارا نہیں چھوڑا تھا آج وہ ہمیں کیسے چھوڑ دے گا۔ تو مظلوم تو وہ ہیں جن کا سہارا کوئی نہیں آپ کیسے مظلوم ہوئے ان معنوں میں میرا مطلب ہے؟ یعنی مظالم تو ہیں لیکن ان مظالم کی داستان کسی اور طرف ختم ہونے والی داستان ہے۔ یہ مظالم ایسے نہیں کہ جن پر ہوتے ہیں ان کو مٹایا کرتے ہیں یہ وہ مظالم ہیں جو ظلم کرنے والے ہاتھوں کو مٹا دیا کرتے ہیں ۔ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ (اللعب (۲) کی آواز آپ سنیں، یہ وہ آواز ہے جو چودہ سو سال پہلے مکہ میں اس وقت بلند ہوئی تھی جب کہ وہم و گمان بھی کوئی نہیں کر سکتا تھا کہ ابولھب اور