خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 491

خطبات طاہر جلد ۳ 491 خطبہ جمعہ کار ستمبر ۱۹۸۴ء پاکستان میں احمد یوں پر مظالم (خطبہ جمعہ فرموده ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے قرآن کریم کی بعض آیات کی تلاوت کے بعد یہ بتایا تھا کہ جہاں تک قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے شرعی عدالت یا شرعی حکومت کا ایک ہی تصور ہے جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے اور وہ ہے انصاف۔اگر عدل مشترک ہو حکومت میں اور عدالت میں ہو تو دونوں ہی شرعی عدالیں اور شرعی حکومتیں کہلا سکتی ہیں کیونکہ قرآن کریم نے نہ تو کوئی طرز حکومت بیان فرمائی ہے اور نہ ہی کوئی طرز عدالت بیان فرمائی ہے۔البتہ ایک بنیادی شرط رکھ دی دونوں میں اور وہ ہے عدل اور انصاف کا قیام۔اگر کوئی حکومت غیر کی بھی ہولیکن عدل پر قائم ہو تو اس سے ملک کے شہریوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں لاحق ہو سکتا۔کوئی آپ تصور ہی نہیں کر سکتے کہ حکومت عدل پر قائم ہو یعنی اقتصادی عدل بھی کر رہی ہو ، معاشی عدل بھی کر رہی ہو، تمدنی عدل بھی کر رہی ہو ، انتظامی عدل بھی کر رہی ہو۔وہ حکومت کیسے آئی تھی کیوں آئی تھی کون لوگ تھے اس سے قطع نظر اس ملک کے باشندوں کا حق غصب نہیں کیا جاسکتا ہے اور انہیں ہر طرح کی آزادی نصیب ہو جائے گی کیونکہ آزادی کے لئے پہلی شرط عدل ہے اور اگر عدالت کا تصور باندھیں تو وہاں بھی اگر عدل کا قیام ہے تو ہر عدالت خواہ اس عدالت کے منصفین کوئی بھی مذہب رکھتے ہوں اگر عدل کے مطابق فیصلے کریں گے تو وہ خدا