خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 457 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 457

خطبات طاہر جلد ۳ 457 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۸۴ء نہایت ہی خوفناک اور تکلیف دہ باتیں کی جا رہی ہوں چاروں طرف سے اور ان لوگوں کو گالیاں دی جارہی ہوں جن پر انسان جان نچھاور کرنے کو تیار ہو اور بے بسی کا عالم ہو اس وقت اگر کوئی غم نہیں کرتا ہے تو وہ مارا جائے گا۔ اگر وہ زبردستی کرے اپنے اوپر اور اپنے آنسو نہ نکلنے دے اور فیصلہ کر لے کہ میں نے کچھ نہیں کرنا اور زبردستی ہنسنے کی کوشش کرے تو وہ تو مریض بن جائے گا اعصابی ، وہ تو پاگل ہو جائے گا ، ہو سکتا ہے ایسے لوگ کچھ عرصے کے بعد خود کشیاں شروع کر دیں۔ تو خدا کی راہ میں جب غم آنسو بہانے کا موقع دیتا ہے تو سارے طبیعت کے تناؤ دور ہو جاتے ہیں، تازہ دم ہو کر ہلکا پھلکا جسم لے کر انسان دعاؤں میں سے باہر نکلتا ہے۔ تو وہ غم جو رحمت ہے اسے زحمت سمجھنا یہ تو بڑی سادگی ہے۔ بیوقوفی تو میں نہیں کہتا کیونکہ محبت کے جذبات سے لوگ باتیں کرتے ہیں لیکن جن سے محبت ہو ان کی بیوقوفیوں کو بعض دفعہ سادگی کہنا پڑتا ہے اس لئے مجھے بھی چونکہ آپ سے پیار ہے اس لئے میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ بہت سادگی کی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ غم نہ کرو اور اپنی صحت برباد کرلوں ۔ جتنے تناؤ ہیں ان کے لئے کوئی راہ نہ نکلے اس لئے اللہ کی راہ میں غم کی اجازت ایک نعمت ہے، رحمت ہے اللہ تعالیٰ کی ، دعاؤں میں ڈھلتا ہے غم تب رحمت بن جاتا ہے، اعصابی تناؤ کو دور کرتا ہے تب رحمت بن جاتا ہے۔ اس لئے اس مضمون کو ختم کریں ، آپ بھی کریں اور مجھے بھی کرنے دیں اور یہ شرط ضرور ہے کہ اس غم کو سوائے خدا کی راہوں میں ڈھالنے کے اور کسی راہ میں نہ ڈھالیں، ذاتی انتظام میں تبدیل نہ کریں، بے صبریوں میں تبدیل نہ ہونے دیں، مایوسیوں میں تبدیل نہ ہونے دیں۔ یقین کامل ساتھ رکھیں پھر دیکھیں کہ یہ غم کتنی بڑی رحمت بن جاتا ہے آپ کے لئے اور ساری جماعت کے لئے ۔ تو ہوش کے ساتھ معاملات کو سمجھ کر پھر انسان کو مومن کو اپنا رد عمل معین کرنے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مرضی کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔