خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 456

خطبات طاہر جلد ۳ 456 خطبه جمعه ۷ ار ا گست ۱۹۸۴ء یہ بھی کہیں گے کہ دعا بھی چھوڑ دو۔سوکھے منہ کی دعائیں ہیں بھی کوئی حیقیت رکھتی ! بے معنی چیزیں ہیں اس لئے نہ میں نے آپ کو غم سے روکا بلکہ یہ کہا کہ جب تک خدا کی تقدیر اترتی نہیں ہے خوشخبریاں لے کر اور یہ آپ کو نہیں کہتی ظاہر ہو کر کہ اب غم نہ کرو اس وقت تک غم کو نہیں بھلا نا آپ نے کیونکہ یہ آپ کا خزانہ ہے، یہ آپ کے لئے نعمت ہے۔غم ہوگا تو دعائیں کریں گے غم نہیں ہوگا تو دعائیں کس طرح کریں گے آپ۔ہاں اسلام ہر بات کی تربیت کرتا ہے، اسے لگا میں دیتا ہے،اسے سلیقہ کے ساتھ معین راہوں پر ڈالتا ہے۔یہ فرماتا ہے کہ غم لے کر دنیا کے سامنے نہ پھریں جھولیاں لے کر، یہ فرماتا ہے کہ اپنے غم کو خدا کے حضور گریہ وزاری میں لگا دو تا کہ ایک ایک ذرہ غم کا تمہارے کام آجائے ضائع کچھ نہ ہو، یہ بات تو درست ہے۔دوسرا ایک اور غم کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ غم کے نتیجہ میں جو لوگ سمجھتے ہیں کہ صحت خراب ہو جاتی ہے بالکل غلط ہے۔یہ تجزیہ بھی میں آپ کے سامنے رکھ دینا چاہتا ہوں کیونکہ بعض لوگ جو مجھے لکھتے ہیں وہ ساتھ اس کی وجہ بھی بتادیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں فکر ہے تمہاری صحت گر جائے گی حالانکہ میری صحت تو پہلے سے اچھی ہو گئی ہے اللہ کے فضل سے اور زیادہ قوت پاتا ہوں میں اپنے اندر مقابلہ کی اس لئے یہ تو وہم ہے آپ کا کہ میری صحت گر گئی ہے۔غم سے صحت نہیں گرا کرتی یہ میں آپ کو بتا تا ہوں اور آپ حیران ہوں گے کہ یہ کیسی بات کر رہا ہے لیکن میں تجزیہ کر کے بتاؤں گا آپ کو۔دو قسم کے غم ہوتے ہیں۔ایک غم وہ ہوتا ہے جو مایوسی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور بے اختیاری کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے جس میں کوئی امید کی کرن نہیں رہتی۔وہ هَا فَاتَكُم والا غم ہی ہے اصل میں یعنی کسی کا پیارا ہاتھ سے نکل جائے بے بس ہو جاتا ہے وہ ساری عمر روتا رہے اور وہ ہاتھ نہ آئے۔یہ غم تو خدا نے پہلے ہی منع کر دیا ہے اس لئے مومن تو ایسا غم نہیں کیا کرتا اور یہی غم ہے جو صحتوں کو کھا جاتے ہیں ، روتے روتے آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ماؤں کی ، ان کے کلیجے جل جاتے ہیں۔لیکن ایک غم وہ ہے کہ جو بجائے اس کے کہ صحت گرائے صحت میں اضافے کا موجب بنتا ہے۔یا یوں کہنا چاہئے کہ صحت کو سنبھالنے کے لئے ضروری ہے۔جب اعصابی تناؤ پیدا ہو جائیں، جب