خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 455

خطبات طاہر جلد ۳ 455 خطبه جمعه ۷ ار اگست ۱۹۸۴ء ایک موقع پر منع فرمایا گیا ہے کہ تو ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاک نہ کر جو انکار کرتے ہیں وہاں بھی دراصل فاتَكُم کا مضمون ہے۔مسلمانوں کے غم سے کہیں نہیں روکا۔بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ ) (التوبہ: ۱۲۸) بتایا ہے بے انتہادر در کھنے والا بے انتہا نرم مومنوں کے لئے۔جہاں منع کیا ہے وہاں یہ کہ وہ لوگ جو ضائع ہو گئے ہیں جو مسلمان نہیں ہو سکے اور خدا کی نظر میں ضائع ہو گئے اور کھوئے گئے ان کا غم نہ کرو یہ بالکل اس آیت کے مطابق ہے لِكَيْلَا تَحْزَنُوا تا کرغم نہ کر تم اس چیز کا جو مَا فَاتَكُم جو تم سے کھوئی گئی ہے۔تو قرآن کریم Consistent ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے اور آنحضر کو الله تعالیٰ نے سمجھایا کہ جو لوگ ضائع ہو گئے ہیں ان کا غم نہ کرو اور آنحضور ﷺ کا دل اس معاملہ میں اتنا نرم تھا کہ بعض باتوں میں نہ کر سکنا نا فرمانی نہیں ہوتی بلکہ ایک بے اختیاری ہوتی ہے۔خدا نے فرمایا رسول اکرم ﷺ از مار کے ہوں گے اور پوری باگیں ڈال دی ہوں گی اپنے جذبات پر لیکن جو دل نرم ہو وہ بہر حال کڑھتا رہتا ہے۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ جو طاقت میں نہیں ہے انسان کے وہ کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار پڑھیں ایسے ایسے دردناک مناظر ملتے ہیں کہ: کیا میرے دلدار تو آئے گا مرجانے کے دن تتمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۳۹ ) شور کیسا ہے تیرے کوچے میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا سرمه چشمه آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴ ) پڑھیں تو سہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام، کس صحابی نے آپ کو لکھا تھا کہ غم نہ کرو۔ایک بھی واقعہ نہیں ملتا اس لئے نہ میں آپ کو کہتا ہوں غم نہ کریں نہ آپ مجھے کہیں اور ویسے بھی بیوقوفی ہے اس موقع پرغم نہ کرنے کا مشورہ دینا کیونکہ تم تو آج کل ہمارے لئے ایک دولت ہے ،خزانہ ہے، غم کی طاقت سے تو ہم نے یہ میدان جیتنے ہیں۔غم کیا چیز ہے؟ غم وہ جذبہ ہے جو مومن کو خدا کی طرف مائل کرتا ہے اور بڑے درد سے دعائیں اٹھتی ہیں اس کے نتیجہ میں تو غم کے بغیر دعا کیسے کروں گا پھر آپ