خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد۳ 454 خطبه جمعه ۷ ار ا گست ۱۹۸۴ء کچھ سمجھانا چاہتا ہوں۔میرا فرض ہے، جذبات کا معاملہ اپنی جگہ لیکن تربیت کروں، بتاؤں کہ کہاں قرآن کیا تقاضا کرتا ہے کس قسم کا غم کرنا چاہئے؟ کس قسم کا نہیں کرنا چاہئے ؟ اس لئے میں جذبات کو مجروح کرنے کی خاطر نہیں بلکہ جذبات کا رخ درست کرنے کی خاطر بعض دفعہ بعض تربیتی باتیں کہتا ہوں۔مثلاً کثرت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ تم غم نہ کرو ہمارا جو مرضی ہو۔یہ بالکل غلط بات ہے اصولاً بے معنی بات ہے۔وہ تفریق نہیں کرتے بعض باتوں میں قرآن کریم جب یہ فرماتا ہے کہ : تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيْكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا ( حم السجدہ: ۳۱) کہ فرشتے نازل ہوتے ہیں ان پر اور کہتے ہیں غم نہ کرو۔تو اس کا وہ مطلب نہیں سمجھتے۔اس سے مراد ہرگز نہیں ہے کہ دین کا غم نہ کرو۔اگر یہ مطلب لیا جائے کہ دین کا غم نہ کرو اور اپنے مسلمان بھائیوں کا غم نہ کرو تو پھر آنحضرت ﷺ کو تو غم ہونا ہی نہیں چاہئے تھا، ذاتی غم تھا کوئی نہیں ، پرواہ ہی کوئی نہیں تھی دنیا کی ، اس طرف دنیا آئی اس طرف سے پھینک دی، بے تعلق تھے دنیا سے کلیہ اتنا ہی تعلق تھا جتنا خدا کہہ کے رکھواتا تھا اور دین کا اگر یہ ترجمہ کیا جائے لَا تَحْزَنُوا کہ فرشتے نازل ہو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو تو پھر رسول کریم نے کیوں غم کو لگائے بیٹھے تھے سینے سے وہاں اور مراد ہے لَا تَحْزَنُوا لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ (آل عمران : ۱۵۴) یہ معنی ہیں کہ اس چیز کا غم نہ کرو جو خدا کی راہ بھی تم سے کھوئی گئی ہے۔خدا کثرت سے دے گا اور ویسے بھی جب خدا کی خاطر تم نے کھوئی ہے تو اس میں غم کا کیا سوال ہے؟ محبوب کی محبت تم نے جیت لی ایک وقت میں تم دونوں باتیں کس طرح حاصل کرنا چاہتے ہو۔اگر قربانی کی کوئی روح تھی ،کوئی مقصد تھا، کوئی اعلیٰ ہستی تھی جس کا پیار حاصل کرنا تھا تو اول تو وہیں بات ختم ہو جانی چاہئے کہ جب خدا کی خاطر کھوئی تو بات ختم ہوگئی۔دوسرے ایک اور وجہ بھی ہے کہ خدا تو واپس کر دیا کرتا ہے بڑھا کے واپس کیا کرتا ہے تو ایسی صورت میں غم کرنا نہایت ہی بڑی بیوقوفی ہے۔یہ مضمون ہے جو قرآن کریم بار بار سمجھاتا ہے لَا تَحْزَنُوا کے معنوں میں، دین کا غم نہ کرنا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور جہاں آنحضرت