خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 453 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 453

خطبات طاہر جلد ۳ 453 خطبه جمعه ۷ ار ا گست ۱۹۸۴ء کے کناروں تک اپنے فرائض کو ادا کر رہی ہے۔اتنی بڑی ذمہ داریاں قبول کی ہیں اور اس محبت اور شوق اور اخلاص سے کہ بعض لوگوں نے تو دن رات اپنا ایک کیا ہوا ہے اور سمجھ نہیں آتی کہ ان کو اپنے ذاتی کاموں کے لئے وقت کہاں سے ملتا ہو گا ؟ ایک نوجوان کو میں نے زبر دستی اٹھا کر یہاں سے مجلس عرفان سے بھجوایا تھا کہ اسکی بچی کی حالت زیادہ خراب تھی۔اس کے متعلق پتہ یہ لگا تھا کہ وہ صبح اٹھتا ہے اس وقت جب کہ لوگ ابھی سوئے ہوئے ہوتے ہیں اور کام سے سیدھا یہاں خدمت کے لئے آتا ہے جماعتی کاموں میں اور واپس اس وقت جاتا ہے رات بارہ ایک بجے جب سب سو چکے ہوتے ہیں۔تو مدت سے پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کہاں رہتا ہے؟ بیگم کوتو شاید علم ہو جا تا ہو وہ اٹھتی ہونگی اس کے لئے لیکن عموماً بچوں سے کم از کم وہ بے تعلق ہو چکے تھے۔تو ایک کا نہیں بہت کثرت سے یہ حال ہے اور میں نے حساب لگا کر دیکھا تو جو آدمی ، جو خدام اور انصار اور مستورات اس وقت غیر معمولی ہنگامی حالات کے پیش نظر خدمت کا کام کر رہے ہیں ان کے وقت کی اگر دنیا کی نظر سے قیمت لگائی جائے تو کم از کم اڑھائی تین لاکھ سو پونڈ سالانہ کا وقت ہے جو جماعت احمد یہ انگلستان قربان کر رہی ہے۔اب آپ یہ دیکھ لیجئے کہ ساری ڈاک جو پرائیویٹ سیکرٹری کی ہوتی تھی وہ جماعت نے ہی سنبھالی ہوئی ہے اور نہایت عمدگی سے سنبھالی ہوئی ہے۔اس طرح حفاظت کی ساری ذمہ داری صرف ایک افسر حفاظت ہے باقی وہاں تو بڑی تعداد تھی اور بہت سے کام ہیں۔کھانا خود پکانے والے ہیں ، وہاں تو لنگر موجود تھا اور یہاں پکانے والے بھی خود پکاتے ہیں اور کئی نمونے ہیں اس کثرت سے مستورات نے بھی بڑی خدمت کی ہے اور کر رہی ہیں کہہ کر بعض کام اپنے ذمہ لئے ہیں۔تو تمام جماعت کی مرکزی ذمہ داریاں جو خلافت کے ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں ساری جماعت نے بڑے شوق سے سنبھالی ہیں اس لئے اظہار محبت کے رنگ میں آپ جو مرضی لکھ دیں مجھے اس پر اعتراض نہیں لیکن بدظنی نہ کریں۔میں باہر کے احمدیوں کو پیغام دیتا ہوں بلکہ ان کا حق اور فرض ہے کہ دعائیں کریں ایسی جماعت کے لئے جس کو اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داری ڈالی انہوں نے بڑے خلوص اور محبت سے کما حقہ جیسا کہ حق ہے ویسا ادا کر کے اسکوادا کیا۔ایک دوسری بات جو دوست لکھتے ہیں ایک ذکر میں نے پہلے بھی کیا تھا اس کے متعلق میں