خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 452
خطبات طاہر جلد ۳ 452 خطبه جمعه ۷ ار ا گست ۱۹۸۴ء طرف منسوب ہونے والے ظلم کی حد کر رہے ہوں اپنے دین پر ہی اور ایسے خوفناک حلئے بنا کر اسلام کے پیش کر رہے ہوں کہ جو دنیا میں پہلے مسلمان ہونے کا فیصلہ کرنے والا تھا وہ بھی تو بہ کر کے واپس بھاگ جائے تو پھر یہ سوچ لینا کہ خدا کی تقدیر ہاتھ نہیں ڈالے گی بڑی غلطی ہے۔وہ ایسی صورت میں ضرور ہاتھ ڈالا کرتی ہے اس لئے اب اس کی فکر کریں ہماری تو فکر چھوڑیں، ہمارا تو فکر کرنے والا خدا موجود ہے اپنی فکر کریں کہ خدا کی مخالفت کرنے کے بعد پھر کوئی والی نہیں ہوا کرتا کسی کا کیونکہ جب خدا کی پکڑ فیصلہ کر لیا کرتی ہے تو فَلَا مَرَدَّ لَهُ (الرعد: (۱۲) کوئی نہیں ہے جو خدا کو اس بات سے روک سکے کہ وہ کسی قوم کے متعلق جو بری تقدیر کا فیصلہ کرے تو وہ جاری نہ ہو سکے۔اب میں مختصر ادو باتیں بعض دوستوں کے خطوط سے متعلق کہنی چاہتا ہوں۔پاکستان سے بہت سے خطوط مجھے آتے رہے ہیں اور اب تو انہوں نے جماعت انگلستان کو بھی انہوں نے لکھنا شروع کر دیا ہے، متفرق لوگوں کو کہ ہم نے تو جہاں تک پیش گئی ہمت ہوئی خلافت کی حفاظت کرنے کی کوشش کی اب آپ کے اوپر یہ ذمہ داری ہے اور آپ اس حق کو ادا کر یں۔جذباتی لحاظ سے تو یہ سمجھ آسکتی ہے یہ بات لیکن ویسے جماعت انگلستان پر بدظنی کا کسی کو کوئی حق نہیں۔خلیفہ وقت جہاں بھی جاتا ہے وہ جماعت احمدیہ میں ہی جاتا ہے آخر۔یہ کہنا کہ پاکستان کے احمدیوں کو زیادہ خیال تھا اور یہاں کے احمدیوں کو کم ہے یہ بالکل غلط بات ہے اس لئے جن کو لوگ خط لکھتے ہیں اول تو ان کو سمجھنا چاہئے کہ اس معنی میں نہیں لکھتے کہ گویا وہ جماعت احمدیہ انگلستان کو اپنے سے کم درجہ سمجھتے ہیں ایمان میں بلکہ صرف یہ وجہ ہے کہ محبت کے جوش میں ایسے وقت میں ایسی باتیں منہ سے نکل جایا کرتی ہیں۔چنانچہ تاریخ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ پر خطرات آتے تھے تو صحابہ ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔بعض شہید ہوتے وقت دم توڑتے وقت یہ آخری پیغام دے گئے۔(السیرۃ الحلبیہ زیر غزوہ احد جلد ۲ نصف آخر صفحہ ۴۰۰) یہ مراد تو نہیں تھی کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ہم تو زیادہ مخلص ہیں اور تم لوگ اس معاملے میں ہم سے پیچھے ہو بلکہ یہ اظہار محبت ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں لیکن اگر کسی کے دماغ میں باہر یہ وہم ہو سچ سچ کہ یہ انگلستان کی جماعت اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کر رہی تو میں یہ وہم دور کر دینا چاہتا ہوں کیونکہ انگلستان کی جماعت اپنی توفیق سے اگر بڑھ کر نہیں تو تو فیق