خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 438

خطبات طاہر جلد ۳ 438 خطبه جمعه ار ا گست ۱۹۸۴ء آنکھیں اللہ کے حضور آنسو بہاتی ہیں تو دل جہاں اپنوں کے لئے نرم ہو جاتے ہیں وہاں غیروں کے لئے اور زیادہ ان میں دفاعی شدت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے، کمزوری کی بجائے ان میں ایک خاص توانائی پیدا ہو جاتی ہے۔اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَريهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللهِ وَرِضْوَانًا سَيْمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ اثَرِ السُّجُودِ ( الفتح ۳۰) که محمدمصطفی علیہ اور ان کے ساتھیوں کا ایک عجیب حال ہے اپنوں کے لئے وہ بے انتہار تم دل ہیں اور ان کے دکھ ان سے برداشت نہیں ہوتے لیکن یہ دکھ ان کو دفاعی لحاظ سے کمزور نہیں کرتے ، ان میں نئی قوت عطا کرتے چلے جاتے ہیں اَشدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ غیر کے مقابل پر تو دیکھے گا کہ انتہائی شدید ہو جاتے ہیں یہ کیسے حاصل ہوتی ہے قوت اندرونی طور پر نرمی اور بیرونی طور پر شدت میں اضافہ فرماتا ہے تَريهُمْ رُكَعًا سُجَّدًا یہ کیسے بات پیدا ہوتی ہے؟ خدا کے حضور گریہ وزاری کے نتیجے میں رکوع میں بھی جھک جاتے ہیں سجدوں میں گرتے ہیں دعائیں کرتے ہیں تو جہاں دل کو ایک ٹھنڈک ملتی ہے خدا کے حضور آنسو بہانے سے وہاں جو تپش ہے وہ نرم کرنے کی بجائے اس میں اور زیادہ سختی پیدا کر دیتی ہے غیروں کے مقابل پر اور ایک نئی ہمت ان کو عطا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں یہ نمونے بھی ہیں اور میں ان کو جو کچھ دیر رونے کے بعد گھبرا جاتے ہیں کہتے ہیں ابھی تک کیوں نہیں ہوا ان کو میں بتاتا ہوں کہ مَا ضَعُفُو سے بھی تو سبق سیکھیں بعض نسلیں بوڑھی ہو جاتی ہیں خدا کی راہ میں قربانیاں کرتے کرتے اور پھر بھی ان کے اندر کوئی بڑھاپے کے آثار پیدا نہیں ہوتے اس لئے اللہ کا کام ہے وہ فیصلہ کرے کہ کب اس کی تقدیر نصرت کے رنگ میں ظاہر ہو۔ایک نصرت تو وہ ہر وقت ہماری فرما رہا ہے اسے کیوں بھول جاتے ہیں۔جب بھٹی میں کسی قوم کو ڈالا جاتا ہے اگر تو وہ جل کر باہر نکل رہی ہو پھر تو یہ خطرہ ہے کہ کیوں دیر ہورہی ہے؟ سارے جسم ہو جائیں گے اگر جلنے کی بجائے اُس میں مزید قوت پیدا ہونی شروع ہو جائے، دشمن بجائے اس کے کہ اس کو مٹانے میں کامیاب ہو وہ پہلے سے بڑھنی شروع ہو جائے تو پھر اس بے صبری کا کیا جواز ہے؟