خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 429
خطبات طاہر جلد ۳ 429 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء آئے اور نہ دشمن کی ہیت کے نتیجے میں کسی قسم کا جھکاؤ پیدا ہو کسی قسم کا تذلل پیدا ہو ان سب مصیبتوں میں سے گزرنے کے بعد ، ان سب امتحانوں میں ثابت قدم رہتے ہوئے بھی وہ یہ جانتے ہیں کہ ہمارا مولی ، ہمارا نصیر، ہمارا مددگار، ہمارا سہارا دینے والا خدا کے سواکوئی نہیں اور محض اپنی طاقت سے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے اس لئے وہ مسلسل دعائیں کرتے چلے جاتے ہیں اور دعاؤں کے ذریعہ وہ طاقت حاصل کرتے ہیں فرمایا وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا - وہ ساتھ ساتھ یہ کہتے چلے جاتے ہے کہ اے اللہ ! ہم تو بہت گناہگار ہیں تو نے کیوں ہمیں چن لیا اس مقصد کے لئے ہم نہیں جانتے۔ہمیں تو یہ علم ہے کہ گنا ہوں سے ہمارا بدن چور ہے، زخمی ہے اغْفِرْ لَنَ ہمارے گناہوں کو ڈھانپ لے ہمیں بخش دے وَ اِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم نے بہت سی زیادتیاں کی ہوئی ہیں۔ایسی زیادتیاں جو ہمارے مفاد کے خلاف جاسکتی ہیں، ایسے گناہوں میں ملوث ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں ہم پر قومی لحاظ سے بداثر بھی پڑ سکتا ہے تو اے خدا ! تو ہمارا اسراف بھی معاف فرما دے آج کیونکہ آج وہ دن نہیں ہیں کہ تو ہمیں ناراضگی کی آنکھ سے دیکھے۔آج تو ہم تیری راہ میں جہاد میں مصروف ہیں۔کیسے ہوگا، کیسے ہم سے برداشت ہوگا کہ دشمن بھی غضب کی آنکھ سے دیکھ رہا ہو اور آج تو بھی غضب کی آنکھ سے ہمیں دیکھنے لگے اس لئے آج ہماری پشت محفوظ ہو جانی چاہئے ہمیں یہ فکر نہیں ہونی چاہئے کہ ہمارے گناہوں کے نتیجے میں تو بھی ہمیں ناراضگی کی آنکھ سے آج دیکھ رہا ہے۔وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا آج تو دن وہ ہیں کہ ہمارے پاؤں کو ثبات بخش۔ہمارے قدموں کو قوت عطا فر ، وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ اور کافروں پر جو انکار کرنے والے ہیں ان پر ہمیں فتح نصیب فرما۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان حالات میں جب یہ دعا کی جاتی ہے خدا اسے ضرور قبول فرماتا ہے۔جب انسان اپنے تن من دھن کی بازی لگارہا ہو خدا کی راہ میں اور ہمت نہ ہارے کہ مقابل پر جھکنا نہ جانے خدا کے سوا کسی کے لئے جھکے نہیں اور ساتھ ہی دعائیں کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ناممکن ہے کہ ایسی دعا کو میں قبول نہ کروں ، میں اسے بتاتا ہوں فَانهُمُ الله ثَوَابَ الدُّنْيَا یہاں یہ نہیں فرمایا کہ يُؤْتِيهم الله ثوابُ الدُّنْیا کہ اللہ ان کو دنیا کا ثواب بھی دے گا بلکہ اچانک ماضی میں بدل دیا سب قصہ کو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دے دیا ثَوَابَ الدُّنْيَا ان کے منہ سے یہ کلی ہوئی دعا اتنی یقینی طور پر قبول ہوئی گویا کہ ایک ماضی کا واقعہ تھا خدا نے دے دیا ان کو۔