خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 428
خطبات طاہر جلد ۳ 428 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء کمزور ہونا کہ دفاع کی طاقت اس میں نہ ہو چنانچہ حضرت زکریا کی دعا میں یہی لفظ ملتا ہے ان معنوں میں۔رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا (مریم:۵) کہ اے اللہ ! میری تو روتے روتے ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور عمر کے نتیجے میں بھی طاقت نہیں رہی مجھ میں مزید صبر اور برداشت کی اور اَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبوتِ (العنکبوت: ۴۷) میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے معنوں میں وھن کو استعمال فرمایا کہ جس طرح مکڑی کا جالا فی ذاتہ کمزور ہوتا ہے تازہ بنا ہوا ہو تب بھی کمزور ہوتا ہے بوسیدہ ہو جائے تب بھی کمزور ہوتا ہے اور اس میں کوئی دفاع کی طاقت نہیں ہوتی تو فرمایا جورِ بیون ہیں اللہ والے جو میرے ابنیاء کے ساتھ مل کر جہاد کرتے ہیں مَا وَهَنُوا کسی قسم کی کمزوری بھی ان میں نہیں ہوتی، نہ سرشت کے اعتبار سے وہ کمزور ہوتے ہیں نہ مسلسل جدو جہد کے نتیجے میں وہ کمزور پڑتے ہیں بلکہ مسلسل دفاع میں خدا کی خاطر اپنے اندر ایک مضبوطی کی قوت پاتے ہیں۔مضبوطی کی حالت پاتے ہیں لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ جو خدا کے رستے میں ان کو دکھ پہنچتا ہے اور جو بھی عمل کریں کمزور ان کو نہیں کرتا وَ مَا ضَعُفُوا اور وہ ضعیف نہیں ہو جاتے وَهَنُوا کے بعد ضَعُفُوا میں ایک اور معنی بھی پیدا کر دیا گیا کہ بعض دفعہ اللہ کی راہ میں جہا دلمبا ہو جاتا ہے اور ضَعُفُو میں جو بڑھاپے کے معنی ہیں ایسے آثار پیدا ہو جاتے ہیں کہ گویا ان کی عمریں گزر جائیں خدا کی راہ میں جہاد کرتے کرتے اور بچپن جوانی میں اور جوانی بڑھاپے میں ڈھل جائے لیکن اس قوم پر بڑھاپے کے آثار ظاہر نہیں ہوتے خواہ کتنا لمبا خدا کی راہ میں جہاد کرنا پڑے مَا ضَعُفُو اوہ کمزور نہیں پڑتے اور ان میں کسی طرح بھی بڑھاپے کے آثار ظاہر نہیں ہوتے وَمَا اسْتَكَانُوا اور وہ دشمن کے سامنے کبھی عاجزی نہیں دکھاتے ، دشمن کے سامنے جھکتے نہیں ہیں اور صرف خدا کے سامنے جھکتے ہیں اِستَكَانُوا لِلہ میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مومنوں کو یہ نہیں کہ جھکنا نہیں آتا، جھکنا آتا تو ہے لیکن صرف خدا کے سامنے جھکنا آتا ہے۔جہاں تک دشمن کا تعلق ہے، دنیا والوں کا تعلق ہے مَا اسْتَكَانُوا وہ جھکنا جانتے ہی نہیں وَاللهُ يُحِبُّ الصبِرِينَ اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔تو صبر کی یہ تعریف ہے جو قرآن کریم نے اس موقع پر بیان فرمائی نہ سرشت میں کمزوری ہو، نہ پے در پے حملوں کے نتیجے میں کوئی کمزوری واقع ہو ، نہ ابتلا کے لمبا ہو جانے کے نتیجے میں کوئی کمزوری