خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 37 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 37

خطبات طاہر جلد ۳ 37 خطبہ جمعہ ۲۰/جنوری ۱۹۸۴ء Chain بنالیا کرتے ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ کی صفات بھی بعض صورتوں میں Close Circut Chains کی شکل میں نظر آتی ہیں یعنی ایک بند دائرہ کی شکل میں ایک دوسرے سے تعلق رکھتی ہوئی۔بعض صورتوں میں وہ ایک دوسرے سے مسلسل رابطہ رکھتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں تو عفو کا تعلق ایک طرف مغفرت سے ہے اور ایک دوسری طرف ستاری سے ہے اور عفو کی بھی ایک منفی صفت ہے یعنی عفو کے نہ ہونے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور ستاری کی بھی ایک منفی صفت ہے جو ستاری کے نہ ہونے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور جس برائی کا خدا نے ذکر فرمایا ہے اس سے ایک پہلو کے لحاظ سے یہی مراد ہے کہ جب تم خدا تعالیٰ کی صفت ستاری کو چھوڑو گے تو اس کی منفی صفت تمہارے اندر پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور جب وہ پیدا ہو جائے گی تو تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم رہ جاؤ گے اور خدا کی پکڑ کے نیچے آ جاؤ گے۔ان منفی صفات کا ذکر تو میں آئندہ کروں گا اس وقت میں آج کے خطبہ کا مضمون صرف ستاری کے تعلق میں بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ ستار ہے کیا معنی ہیں اور عفو اور ستاری میں کیا فرق ہے پہلے تو میں یہ بیان کرتا ہوں عفو کہتے ہیں کسی برائی کو دیکھنا اور اس سے حیا کر جانا ، صرف نظر کر جانا۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کو حیی بیان فرمایا کہ بڑا حیا کرنے والا ہے۔اس کثرت سے تمہیں گناہوں میں ملوث پاتا ہے اور اس کثرت سے تمہاری خطائیں دیکھتا ہے اور کوئی پہلو بھی ایسا نہیں ہے تمہاری برائیوں کا جو اس سے مخفی ہو۔بسا اوقات تمہاری برائیاں تم سے مخفی رہتی ہیں، جھوٹی نیتوں کے پردوں میں تم نے ان کو چھپایا ہوا ہوتا ہے لیکن خدا جو کہنہ تک نظر رکھتا ہے اور پاتال تک اس کی نظر پڑتی ہے وہ ہر بات سے واقف ہے ، تم بھی اپنی برائیوں سے ایسے واقف نہیں۔اس کے باوجود وہ صرف نظر فرماتا ہے، حیا کرتا ہے تم سے۔( ترمذی کتاب الدعوات باب فی دعاء الشی ء ) اس کو عفو کہتے ہیں اور عفو کا ایک طبعی نتیجہ یہ ہے کہ جب انسان ان برائیوں سے حیا کرتا ہے تو غیروں سے بھی ان کو چھپائے۔یہ تو عفونہ ہو گی کہ خود تو کسی کی برائیوں سے صرف نظر کرے اور غیروں پر ان کو ظاہر کرنا شروع کر دے اس لئے ستاری عفو کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔جن بندوں سے اللہ تعالیٰ حیا فرماتا ہے ان کی پھر ستاری بھی کرتا ہے اور آگے لوگوں سے ان کو محفوظ کرتا ہے۔چنانچہ یہاں جو حفاظت کا مضمون بیان فرمایا: