خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 407
خطبات طاہر جلد ۳ 407 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء آواز میں دے آیا ہوں، خدا کوئی نہیں ہے۔تو مومن کے لئے بے صبری ایک زہر قاتل کا حکم رکھتی ہے اسی لئے قرآن کریم میں بے انتہاء صبر پر زور دیا ہے۔صبر کے ساتھ دعائیں کرتے چلے جائیں اور یہ فیصلہ کر لیں کہ اگر ہمیں ہزار سال کی بھی زندگی ملے اور نعوذ باللہ، اللہ تعالیٰ نے ہزار سال سے لمبی آزمائش ہماری مقدر کر دی ہو تو ہم اپنے رب کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور کوئی کلمہ کفر اس کے مقابل پر نہیں کہیں گے۔ہم بندگی کا حق ادا کرتے رہیں گے اور یہ عرض کرتے رہیں کہ اے مالک! تو اپنی مالکیت کے حق جب چاہے ادا کرے ہمارا کچھ بھی نہیں ہے۔یہ روح آپ پیدا کریں پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح کائنات کو آپ کی خاطر تبدیل کر دے گا۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: دو جنازے غائب ہیں جو نماز کے بعد پڑھے جائیں گے یعنی نماز عصر کے بعد۔آج چونکہ خدام کا اجتماع ہے اس لئے آج انشاء اللہ جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع ہو جائے گی اور اس کے بعد دوست کھڑے ہو جائیں دوبارہ صف بندی کر لیں تا کہ دو نماز جنازہ پڑھے جائیں گے غائب۔ایک محمد ادریس ہیں جو پرانے صدر انجمن کے ایک ڈرائیور تھے محمد اسماعیل صاحب، بڑے مخلص تبلیغ کا بڑا شوق رکھنے والے، اُن کا بائیس سالہ جوان بیٹا ان ہنگاموں کے دوران پہاڑی پر ڈیوٹی دے رہا تھا تو وہاں کہیں پاؤں رپٹ گیا اس کا اور پہاڑی سے گرا تو پھر جانبر نہیں ہوسکا صدموں سے۔تو یہ بھی ایک شہادت کا ایک رنگ ہے اور یقیناً شہادت کا رنگ ہے۔دوسرے ہمارے ایک کراچی کے بہت پرانے خادم سلسلہ عبدالرحیم صاحب مدہوش وہ بھی ایک حادثے میں وفات پاگئے۔چونکہ خدمت دین میں ان کو ایک نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے، بہت پرانے کراچی کے خادموں میں سے صف اول میں تھے اس لئے ان دونوں کی نماز جنازہ عصر کے بعد ہوگی۔عصر کے بعد یہ جو ہمارے خدام یا انصار باہر سے تشریف لائے ہوئے ہیں ان میں سے جو غیر ملکی یعنی پاکستان کے نقطہ نگاہ سے غیر ملکی اور جن ملکوں سے آئے ہیں وہاں کے ملکی ہیں حقیقی ، وہ مجھے مل لیں فوراً بعد۔باقی پھر انشاء اللہ دوبارہ ملاقات ہوگی لیکن ایک دفعہ ان سے مصافحہ ہو جائے یعنی جرمنی سے آنے والے جرمن اگر ڈنمارک سے کوئی ڈین آیا ہوا ہے تو وہ بھی اگر سویڈین سے کوئی سویڈ آیا ہوا ہے وہ بھی یہ میری مراد ہے وہ بھی نماز کے فوراً بعد یہاں مل لیں مجھے جب رستہ بنایا جائے تو یہاں کھڑا کر دیں انہیں۔