خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 406
خطبات طاہر جلد ۳ 406 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء جب یہاں تک دستور پہنچ جائے ۔ تو پھر واقعہ وہی بات رہتی ہے کہ اب تم چھوڑ دو اس بات کو ، اب خدا سے وہ مانگو جس کا تم ہمیں وعدہ دیا کرتے تھے۔ اس بات میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ پرانی قو میں عقل کے لحاظ سے بہتر تھیں کئی باتوں میں ، بعض نتیجے وہ بالکل درست نکالتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جب ہم نے حد ہی کر دی ہے ظلم کی تم پر تو اب اس کے سوا اور رستہ ہی کوئی نہیں رہا کہ تم جس خدا کی طرف منسوب ہوتے ہو جس کے برتے پر ناچ رہے ہو اور ایسی بڑی بڑی باتیں کرتے ہو پھر اس کو بلاؤ ، اب تو ہمارا فیصلہ وہی کرے گا اور قرآن ان کے اس دعوے کو تسلیم کرتا ہے اور یہی اعلان کرتا ہے بعد میں کہ ہاں پھر یہی ہوگا۔ اب تمہارا اور ہمارا معاملہ ختم ہے اب ہمارے خدا کا اور تمہارا معاملہ ہے اور پھر تم سے وہی سلوک کرے گا جو اس سے پہلے اس کردار کے لوگوں سے سلوک ہوتا چلا آیا ہے۔ اس لئے دعا ئیں بہت کریں کثرت سے کریں، ابھی یہ مضمون آگے بڑھ رہا ہے رک نہیں گیا ۔ جو دلوں میں بغض ہیں وہ ابھی پوری طرح کھل کر نہ با ہر آئے ہیں نہ ان کی پیاس بجھی ہے کیونکہ جہنم کی یہ تعریف قرآن کریم نے بتائی ہے کہ اس کی پیاس نہیں بجھا کرتی اور یہ ایسی ایک لازمی حقیقت ہے، ایسی غیر مبدل حقیقت ہے کہ ہمیشہ کے لئے یہ دستور جاری ہے کوئی اس کو بدل نہیں سکتا کہ محبت کی پیاس تو بجھ جایا کرتی ہے وصل سے لیکن نفرت کی پیاس انتقام کے باوجود نہیں بجھا کرتی ۔ بھڑک جاتی ہے اور بھی، کہتے ہیں اور بھی کچھ ہو هَلِ امْتَلَاتِ جب پوچھا جاتا ہے تو کہتی ہے هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ (ق: ۳۱) کہ اللہ میاں ابھی کہاں ابھی کچھ اور ڈال ، ہماری آگ میں ذرا اور بھی بھڑ کن پیدا ہو تو زیادہ لطف آئے گا، تو یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔ خدا کی تقدیر کے سوا کوئی طاقت نہیں ہے جو اس سلسلے کو ختم کر سکے اس لئے بار بار گریہ وزاری کے ساتھ خدا کی طرف جھکیں اور جھکتے چلے جائیں اور بے صبری نہ دکھا ئیں کیونکہ بے صبری دعاؤں کو کاٹ دیا کرتی ہے اور بے صبری ہمیشہ کفر پر منتج ہو جایا کرتی ہے اور پھر ایسے بڑے بول انسان بولنے لگ جاتا ہے کہ ہم تو مٹ گئے سجدوں میں ، ہم تو اتنا روئے ، کہاں تھا وہ خدا وہ تو کہیں نہیں آیا ہماری مدد کے لئے؟ بے صبری تو پھر وہیں پہنچادے گی ۔ جہاں شیلے کو جو انگریز Poet تھا اس کے بے صبری نے پہنچایا تھا۔ چند غاروں میں جا کے آوازیں دیں کہ خدا ہے، ہے کہ نہیں ہے اور گونج پیدا ہوتی رہی اس کے سوا اس کو کچھ حاصل نہ ہوا اور تھوڑی دیر کے بعد اعلان کر دیا میں تو سب غاروں میں پھر آیا ہوں ،