خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 405

خطبات طاہر جلد ۳ 405 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء صاحب سے کیا اور بڑے ذہین آدمی تھی بڑی باریک بین نظر تھی ان کی۔انہوں نے مولانا مودودی صاحب سے سوال کیا کہ مولانا آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ حق حاصل ہے ہمیں کہ چونکہ ہم حق پر ہیں اس لئے باطل کو نہیں پنپنے دیں گے اور باطل کے خلاف ڈنڈا استعمال کریں گے اور یہ عقلی بنیادی حق انسان کو حاصل ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کے ہمسائے میں ہندوستان ہے کیا ہندوؤں کو بھی آپ یہ حق دیں گے یا اُن کو انسانیت سے ہی خارج کر دیں گے تو مولانا مودودی نے فرمایا کہ ہاں ہندو کو بھی ہم حق دیں گے۔انہوں نے کہا بہت اچھا اگر ہندو کو حق دیں گے تو وہ آپ کو اچھوت بنائے گا اپنے مذہب کے مطابق اور یہ یہ مظالم کرے گا اور اگر گزرتے ہوئے کسی وقت آپ کے کان میں وید کی آواز پڑ جائے تو سیسہ پگھلا کر اس کان میں ڈالا جائے گا۔اگر سایہ پڑ جائے کسی ہندو کے کھانے کی جگہ پر تو عذاب دے کر مروایا جائے گا اور یہ تفاصیل اور یہ ہندو مذہب ہے وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں۔تو کیا آپ کے نزدیک یہ ٹھیک ہے؟ انہوں نے کہا بالکل درست ہے، ہمیں کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں پر کیا ظلم ہوتے ہیں ، ہم تو قائم رہیں گے اس بات پر۔یہاں پہنچ جاتا ہے انسان جب حق کو چھوڑتا ہے۔بس قرآن کریم کی تعلیم اپنے حسن کو زور سے منواتی ہے یعنی زور دلیل سے، عقل کی قوت سے اور بے اختیار کر کے رکھ دیتی ہے مقابل کے باطل کو ، اس کی پیش ہی نہیں جانے دیتی۔جب ایک غلط قدم اٹھا لیں گے تو مخالف پر غلط قدم اٹھتے اٹھتے بالکل برعکس نتائج پیدا ہوں گے، مسلمان قوم کی حفاظت کی بجائے مسلمان قوم کی ہلاکت کے سامان پیدا کرلیں گے اگر آپ قرآن کی تعلیم سے پیچھے ہٹیں گے اور ساری دنیا میں اسلام کی تبلیغ بند کیونکہ Reciprocal Basis پر کام چلتا ہے آج کل، پہلے بھی چلا کرتا تھا ، اب بھی چلتا ہے، آئندہ بھی یہی ہوگا۔جب ایک قوم میں کسی دوسرے نظریہ کے حقوق کو تلف کیا جائے تو دوسری قوم انہیں حقوق کو خود استعمال کرتی ہے پھر دوسرے کے مقابل پر تو اس سے زیادہ ظالمانہ سکیم، ایسی خوفناک سازش جس دماغ میں آئی ہے یا جن دماغوں میں اس نے پرورش پائی ہے ان کا تو بعد میں اگر وہ اجازت دیں تو معلوم کرنا چاہئے کہ کس نوع کے وہ دماغ تھے کہ ہر بات میں الٹ۔خود کشی کا اس سے زیادہ خوفناک طریقہ سوچا ہی نہیں جا سکتا اور پھر قرآن کی طرف منسوب کیا جارہا ہے نعوذ باللہ من ذالک، رسول اکرم علی کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے۔تو