خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 401
خطبات طاہر جلد ۳ 401 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء الگ ہورہے تھے اور اس کے لئے ایک باقاعدہ دستور العمل جاری کیا گیا تھا اور وہ دستور عمل یہ تھا کہ پاکیزہ کے لئے ضروری قرار دے دیا کہ بختی کی چھانٹی میں سے گزرو تکلیفوں اور مصیبتوں میں سے نکل کر دکھاؤ تب ہم مانیں گے تم پاکیزہ ہو اور جو خبیث تھے ان کے لئے یہ دستور العمل مقر فر مایا کہ تم پر کوئی حرج نہیں تم زندگی کے عیش کرو، جو چاہو لذتیں حاصل کرو اور تمہیں قربانی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہاں اگر فساد برپا کرنا ہو تو پیسے لے کر کسی سے بیشک کرو، کھلی چھٹی ہے لیکن جن کو ہم طیب بنانا چاہتے ہیں ان کے لئے یہ دستور ہے کہ وہ قربانیاں بھی دیں اور پھر پیسے بھی ساتھ خدا کی راہ میں خرچ کریں۔غریب ہوتے ہوئے بھی اپنے آپ کولٹا ئیں اللہ کی راہ میں، یہ دستور العمل تھا جو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے اور آنحضرت کو کے زمانے تک جاری رہا اور اب پھر جاری ہے ان کی نظر میں جن کی نظر اندھی نہیں ہوگئی ان کو تو نظر آ رہا ہے۔تو اس ساری محنت کو جو تاریخ کی گہرائیوں میں پیوست چلی آرہی ہے اُس کو آنا فانا باطل کر کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا کر دیا کہ نہیں، باطل کو حق سے الگ نہیں ہونے دیا جائے گا۔مارکر، جوتیاں مار کر تکلیفیں دے کر قتل کر کے زندہ جلا کر ، گھروں سے نکال کر ، سب ہتھیار استعمال کر کے واپس لے آیا جائے گا اپنی ملت میں اور کہا جائے گا تم یہیں سجتے تھے تم یہیں آجاؤ اور جو بچے ہیں ان کو قتل و غارت کر کے ختم کر دیا جائے۔یہ ہے وہ دستور جس کے اوپر بڑے بڑے وقت کے علم اتنی لمبی لمبی تقریریں کر رہے ہیں۔حیرت ہوتی ہے ان کو دیکھ کر ان کی شکلیں دیکھ کر یہ کہ کیا ر ہے ہیں؟ کس کی طرف منسوب ہورہے ہیں؟ جہاں تک تبلیغ کا تعلق ہے اس میں بھی چونکہ قرآن کی تعلیم کے خلاف بات ہے اس لئے نہیں چل سکتی۔میں نے ایک دفعہ بڑی تفصیل سے غور کر کے دیکھا تو حیران رہ گیا کہ قرآنی تعلیم کا یہ امتیاز ہے ایک عجیب کہ دنیا کی ہر دوسری تعلیم سے کہاس تعلیم کو چھوڑ کر اگرتم عمل کرنے کی کوشش کرو گے تو نا کام ہو جاؤ گے۔عمل کر ہی نہیں سکتے اور عمل کرو گے اگر زبردستی تو نتیجہ الٹ نکلے گا۔اس کو کہتے ہیں حق کا کھلم کھلا بینات کے طور پر واضح ہو جانا یعنی کسوٹی ہے کہ آپ استعمال کر کے دیکھ لیں اسلامی تعلیم کو چھوڑ کر بر عکس اختیار کریں۔نتیجہ الٹ جائے گا ساتھ ہی۔تو یہ یقین ہو گیا کہ یہ تعلیم اپنی تمام تفاصیل میں سچی ہے۔تبلیغ کے متعلق دیکھیں وہاں بھی یہی صورت حال نظر آئے گی۔کہتے ہیں باطل کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ حق کو تبلیغ کرے کیا اس کے نتیجہ میں اس کا برعکس بھی درست ہے کہ حق کو اجازت نہیں دی جاسکتی کہ باطل کو تبلیغ