خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 400
خطبات طاہر جلد ۳ 400 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء نکلتا ہے۔ظاہر بات ہے بالکل معمولی سی عقل بھی رکھتا ہو انسان تو اسے یہ بات سمجھ آجائے گی کہ جس سوسائٹی میں قتل مرتد کا عقیدہ رائج کر دیا جائے وہاں جو لوگ صادق القول ہیں اور جو اپنے ظاہر و باطن میں ایک ہیں ان میں کوئی نفاق نہیں ہے اور وہ سچائی کی خاطر ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔ایسے وہ لوگ جو انسانیت کا خلاصہ ہیں، یہ سارے قتل کر دیئے جائیں گے کیونکہ ایک بھی ان میں سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔وہ کہے گا کہ سچ کے نام پر میں سچ کا انکار کیسے کر سکتا ہوں کیونکہ میرا دل کہتا ہے کہ یہ بات درست ہے اس لئے تم بے شک اسے باطل سمجھو میں جب تک درست سمجھتا رہوں گا۔اس وقت تک میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں اسے جھوٹ کہہ دوں۔یہی وہ جواب تھا حضرت شعیب کا اَوَلَوْ كُنَّا کر میں 10 مقو! دعوی وہ کر بیٹھے ہو ، جس پر عمل کروا نہیں سکتے۔ہمارے دل ہی نہیں مان رہے تو کیسے تلوار سے دل منوالو گے۔پس تمام وہ لوگ جو بچے ہیں اپنے قول اور فعل میں اور ان کے کردار میں کوئی تضاد نہیں وہ اصول کے رسیا ہیں اور اصولوں پر قائم رہنا جانتے ہیں۔ایسی سوسائٹی میں ان کا قتل عام ہو جائے گا اور ایک بھی نہیں بچے گا اور وہ جو جھوٹے ہیں، بد کردار ہیں جو منافق بنا پسند کرتے ہیں اپنے لئے اور اصولوں کی کوئی قیمت نہیں سمجھتے وہ سارے کے سارے قتل مرتد کے نتیجے میں اس سوسائٹی میں لوٹ جائیں گے جس کی طرف انہیں بلایا جا رہا ہے۔اعلان یہ ہورہا تھا کہ حق کی حفاظت کی خاطر باطل کو مٹانے کے لئے ہم نے یہ فعل کیا۔نتیجہ یہ نکلا کہ حق کو مٹا دیا اور باطل کو سینے سے لگالیا اور منافقت کی پرورش کی۔قرآن کریم میں انبیاء کے آنے کی غرض یہ بیان فرمائی گئی لِيَمِينَ اللهُ الْخَبِيْثَ مِنَ الطيب (الانفال: (۳۸) کہ اللہ تعالیٰ خبیث چیز کو طیب سے الگ کر دے اور قتل مرتد کے عقیدہ نے نتیجہ کیا پیدا کیا کہ خبیث کو الگ نہیں ہونے دینا اگر ہو بھی گیا تھا کمبخت کہیں، تو واپس لے آؤ اور اچھی طرح طیب میں ملا جلا دو تا کہ کچھ سمجھ نہ آئے دانہ صاف کون سا ہے اور گندہ کون سا ہے؟ یہ نہیں سوچا کہ ایک قطرہ پیشاب بکری کا اگر دودھ میں مل جائے یا ایک مینگنی بھی مل جائے تو سارا دودھ گندہ ہو جاتا ہے۔تو جتنی محنت کی تھی انبیاء نے جتنی قربانیاں دی تھیں اور سب سے بڑھ کر حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے محنت فرمائی اور قربانیاں دیں اس ساری محنت کو اس ایک عقیدے کے ذریعہ ضائع کر دیا بلکہ بالکل برعکس نتیجہ پیدا کر دیا۔وہ کمائی محنت کی جس کے نتیجے میں خبیث الگ ہورہے تھے اور پاکیزہ