خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 384
خطبات طاہر جلد ۳ 384 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۸۴ء یہ کتاب کسی کے لئے خاص نہیں ہے۔رحمۃ للعلمین کے اوپر نازل ہوئی ہے، تمام جہانوں کے لئے رحمت ہے، مومنوں کے لئے بھی رحمت ہے اور منافقوں کے لئے بھی رحمت ہے یعنی ان منافقوں کے لئے جن کو خدا منافق کہتا ہے اور ان کو بھی یہ تسلی دیتی ہے کتاب کہ تم بھی میرے فیض سے باہر نہیں رہے اس جھوٹ کے باوجود ، اس دوغلی زندگی کے باجود ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ اگر تم قرآن پر عمل کرو گے اور نیک اعمال کرو گے تو اللہ ان کو ضائع نہیں کرے گا اور یہاں کیا نتیجہ نکالا جارہا ہے کہ چونکہ ہم نے تمہیں منافق قرار دے دیا ہے اس لئے قرآن پر عمل نہیں کرنے دیں گے۔بالکل ایک نئی شریعت نازل ہوئی ہے اس لئے منافقت کیوں کرتے ہیں تسلیم کریں ہماری شریعت الگ ہے اور ہم اپنی شریعت کے ڈنڈے سے تمہیں ہانکیں گے خود تو منافق نہ بنیں قرآن کریم کے اوپر ایک جھوٹا الزام لگا کر کہ قرآنی تعلیم ہے یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ ساری دنیا میں قرآن کریم کو بدنام کرنا اور اپنی دھاندلی کے لئے قرآن کریم سے جواز ڈھونڈ نا اور جواز نہ ملے تب بھی قرآن کی طرف منسوب کر کے وہ بات شروع کر دینا۔یہ واقعہ ہو رہا ہے اس لئے منافقت کا اول تو سوال ہی کوئی نہیں، منافق تو وہ ہوتا ہے جو جھوٹ بول کر اپنے عقیدے کے برخلاف بات کرتا ہوں۔ہمیں تو کہتے ہیں تم کرو اس طرح پس منافقت سے بچانے والا قانون نہیں ہے منافق بنانے والا قانون ہے اور عملاً اس قانون کے فیض میں احمدیوں کے سوا ہر قسم کے خیالات کے لوگ داخل ہو سکتے ہیں اس سے فیض پاسکتے ہیں۔اس کو ذرا آگے بڑھ کر دیکھئے ، ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ تم جھوٹ بولتے ہو دل میں کچھ اور ہے اوپر سے کچھ اور کہتے ہو اور دوسری طرف کامل یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار نہیں کریں گے اس لئے اسلام میں داخل ہونے کی شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا انکار داخل کردیا، نوکریاں چھوڑ دیں گے، جائدادوں سے محروم ہو جائیں گے، اپنے سارے حقوق تلف کر والیں گے لیکن دل سے جانتے ہیں اور یہ گواہی دے رہے ہیں ساتھ ہی کہ اتنے سچے لوگ ہیں کہ شدید سے شدید تکلیف برداشت کرلیں گے لیکن جھوٹ نہیں بولیں گے اور یہی ہو رہا ہے۔تو منافق اس کو کہتے ہیں کہ ہر قسم کے دکھوں کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھے اور قبول کرلے اور جھوٹ نہ بولے تو اپنا عمل کھول کر بتا رہا ہے کہ منافق ہم نہیں ہیں بلکہ کوئی اور ہے اور وہی ہے جس کو خدا کی تقدیر ظاہر کرے گی کہ تم منافق ہو۔