خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد ۳ 376 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ جولائی ۱۹۸۴ء کی اجازت دی جاسکتی ہے۔علی ہذا القیاس یہ منطق اسی طرح آگے چلتی چلی جاتی ہے۔اس وقت اس کے تجزیہ کے متعلق تو میں کچھ مزید نہیں کہنا چاہتا یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی ہے کہ جب جماعت کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ وہ غیر مسلم سرگرمیاں اگر یہ ہیں تو یہ تو بڑی تعجب کی بات ہے پھر تو سب کو روکنا چاہئے ان غیر مسلم سرگرمیوں سے مسلمانوں کو بھی روکنا چاہئے غیر مسلموں کو بھی روکنا چاہئے صرف قادیانی ہی رہ گئے ہیں ان سرگرمیوں سے روکنے کے لئے ،تو حکومت نے پھر ایک وائٹ پیپر White Paper شائع کیا ، ویسے تو وہ وائٹ پیپر چونکہ جھوٹ کا پلندہ ہے اور دل آزاری نہایت گندی قسم کی کی گئی ہے، حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نہایت بے ہودہ اور ذلیل الزام لگائے گئے ہیں، کوئی بنا نہیں ہے اس کی ، نہ قرآن پر بنا ہے نہ سنت پر بنا ہے اس لئے سیاہ کا غذ تو اس کو نام رکھنا چاہئے سفید کاغذ نام رکھنے کی تو کوئی اس کی گنجائش نہیں لیکن اس پہلو سے شاید ٹھیک ہو کہ سفید جھوٹ بھی کہا جاتا ہے۔تو اگر اس محاورے کی رو سے اسے وائٹ پیپر کہا جاتا ہے یعنی قرطاس ابیض تو پھر تو کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے اور ہے بھی وہ یہ انہی معنوں میں۔باوجود اس کے کہ اس میں شدید دل آزاری سے کام لیا گیا ہے ایک پہلو سے مجھے خوشی ہے کہ کچھ بولے تو سہی وہ اور جماعت کو اس کے نتیجے میں اپنی جوابی کاروائی کا موثر موقع ملے گا لیکن بولے عجیب طرح ہیں۔ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے ایسے فرضی حوالے نکالے گئے ہیں جو کسی اور موقع پر کسی اور کے لئے استعمال ہوئے ہیں کچھ اور مضمون رکھتے ہیں اور ان سے ان کو اس طرح اخذ کیا گیا ہے کہ گویا وہ شدید دل آزاری کا موجب ہیں مسلمانوں کے لئے اور دوسری طرف وہ اصل کتب ضبط کر لی گئی ہیں جن میں وہ حوالے ہیں اور ان کی اشاعت کی اجازت نہیں۔گویا کہ وائٹ پیپر تو یہ تشہیر کرے گا کہ دیکھو یہ یہ ہماری دل آزاریاں ہو رہی ہیں یعنی دل آزاریاں تو جاری رہیں گی اور اصل کتاب کو دیکھ کر یہ معلوم کرنے کا موقع کسی کو میسر نہیں آئے گا کہ دل آزاری ہوئی بھی تھی کہ نہیں۔اس کو تو کسی شاعر نے خوب ادا کیا ہے: که سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد ( دست صبا از نسخہ ہائے وفاصفحہ :۱۶۱) کہ پتھروں کو تو باندھ دیا گیا ہے اور کتوں کو آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔فرضی دل آزاری کو تو آزاد کر دیا گیا