خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 375
خطبات طاہر جلد ۳ 375 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۸۴ء جماعت احمدیہ کے خلاف آرڈنینس پر تبصرہ (خطبه جمعه فرموده ۲۰ جولائی ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات قرآنیہ تلاوت فرمائیں: قَالَتِ الْأَعْرَابُ أَمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الإيْمَانُ فِي قُلُوبِكُم وَإِنْ تُطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتُكُمْ مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمُ اور پھر فرمایا: (الحجرات: ۱۵) حکومت پاکستان نے جو احمدیوں کے خلاف آرڈینینس جاری کیا اس کا عنوان ہے کہ احمدیوں کی یعنی انھوں نے تو قادیانی لفظ استعمال کیا ہے کہ قادیانیوں کی غیر مسلم سرگرمیوں کے خلاف آرڈنینس تا کہ قادیانیوں کو ان غیر مسلم سرگرمیوں سے باز رکھا جا سکے اور غیر مسلم سرگرمیاں کیا ہیں؟ سب سے پہلی آذان کہ غیر مسلم اگر کوئی آذان دے گا تو یہ غیر مسلم سرگرمی کہلائے گی اس لئے صرف غیر مسلموں کو غیر مسلم سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور مسلمانوں کو غیر مسلم سرگرمیوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔دوسری غیر مسلم سرگرمی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں تو مسلمان کہنا ایک بہت بڑی غیر مسلم سرگرمی بن گئی اور چونکہ یہ غیر مسلم سرگرمی ہے اس لئے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غیر مسلموں کو اس غیر مسلم سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور مسلمانوں کو اس غیر مسلم سرگرمی