خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 373
خطبات طاہر جلد ۳ 373 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء تمام زیور بچا لیا اور اس حال میں بھی اس گناہ گار کو خالی ہاتھ نہ ہونے دیا۔اس دن کے بعد ہم نے خدا تعالیٰ کے فضلوں اور انعامات کو بارش کے قطروں کی طرح اپنے اوپر اترتے دیکھا۔خدا تعالیٰ نے وہ وہ چیزیں دیں ہیں کہ جن کا وہم و گمان بھی نہ کیا تھا۔خدا تعالیٰ نے اس معمولی سی قربانی کو اتنا بڑھا چڑھا کر قبول فرمایا اس وقت سے اس گناہ گار کے دل میں بڑی شدت سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ یہ زیور جو جاتے جاتے رہ گیا تھا اس کو اپنے ہاتھ سے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کروں۔“ انتِيَا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا ( حم السجدہ :۱۲) کی ایک یہ بھی تفسیر ہے کہ جب خدا کہتا ہے کہ گڑھا بھی آؤ میرے پاس اور طوعا بھی آؤ۔تو جب مومنوں پر اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے تو مراد یہ ہے کہ میری راہ میں تکلیف اٹھاتے ہوئے بھی آؤ، ایسی قربانیاں بھی پیش کر و جوز بر دستی تم سے لی جائیں گی اور طوعا بھی آؤ یعنی طوعی قربانیاں پیش کرتے ہوئے بھی میری راہ میں آؤ۔تو یہ اس فقرے میں اسی کی تفسیر ہے۔(وہ لکھتے ہیں ) اس وقت سے اس گناہ گار کے دل میں بڑی شدت سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ یہ زیور جو جاتے جاتے رہ گیا تھا اس کو خود اپنے ہاتھ سے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کروں۔نومبر 83ء میں آپ کی تحریک بیوت الحمد میں اس عاجزہ نے چار چوڑیاں پیش کر دیں تھیں باقی زیور خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر آپ کی خدمت میں پیش کرتی ہوں، آپ اس کو کسی فنڈ میں استعمال کر لیں یہ اس خادمہ پر بڑا احسان ہوگا، خدا تعالیٰ کی رضا چاہتی ہوں ، خدا تعالیٰ اس حقیر قربانی کو قبول فرمائے۔آمین۔زیور کہاں بھجوایا جائے ؟ حکم کی منتظر ہوں۔“ 66 یہ ہے جماعت احمد یہ جو خدا کے ان بندوں پر مشتمل ہے جن کے وجود سے غیر طیش کھا رہا ہے اور جن کے اوپر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے اور خدا کی راہ میں دکھ اٹھانے کے بعد ان کا یہ رد عمل ہے کہ جو کچھ تم نے زبردستی چھین لیا اس کے علاوہ جو رہ گیا ہے وہ ہم تو ایسے خدا کے بندے ہیں کہ خود اپنے ہاتھوں سے، شوق سے ، ولولوں کے ساتھ خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لئے حاضر بیٹھے ہیں۔ایسی قوم کا کوئی کیسے کچھ بگاڑ سکتا ہے! اور پھر عجیب حال ہے کہ یہ لوگ یہ ساری باتیں یہ محبت بھرے خط یہ پیاری باتیں یہ عشق کے افسانے لکھتے ہیں اور ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں بڑے فکر کے ساتھ کہ ہمارے لئے فکر نہ کیا کرو، ہمارا خیال نہ کیا کرو، یہ ہو کیسے سکتا ہے؟ یہ تو ناممکن ہے۔کل ہی ایک خط کے جواب میں میں نے اس کو یہ لکھا ایک شعر پڑھا کرتا تھا لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ کبھی مجھے