خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 372
خطبات طاہر جلد ۳ مجھ سے ہو سکے وہ تو کر گزروں۔372 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء ایک نوجوان یہ خبر دے رہے ہیں اور یہ عجیب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دین کا اس کی عطا کا سلسلہ بھی اس شدت کے ساتھ جاری ہے کہ کوئی اس میں ادھار نہیں ہے۔قرض نہیں رکھتا اللہ تعالیٰ۔ایک نوجوان جرمنی کے لکھتے ہیں کہ میں بہت ہی دلبرداشتہ تھا کہ میرے پاس کچھ زیادہ نہیں اور مجھے جو آٹھ سومارک ملتے ہیں یہ حکومت کی طرف سے ہیں اس میں مجھے نوکری نہیں ملی ہوئی کوئی اس میں سے چار سو کرائے کے نکل جاتے ہیں باقی چار سو میں گزارہ کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن ایسی سخت میرے دل میں تمنا تھی کہ میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر وعدہ کر لیا اور دوسرے ہی دن اللہ تعالیٰ نے مجھے نوکری عطا فرما دی اور میں نے یہ چندہ جتنا بھی لکھایا تھا وہ خدا کے فضل سے پورا ادا کر دیا ہے۔ہالینڈ کی جماعت کے متعلق اطلاع ہے کہ مربی لکھتے ہیں کہ جس والہانہ انداز سے انہوں نے آواز پر لبیک کہا ہے ، مستورات نے زیور دے دیئے اور سب نے اپنی توفیق سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں وہ معجزہ سے کم نہیں۔احباب کو جلد از جلد ادائیگی کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے، ان سب مخلصین کے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ایک خاتون کا خط میں آخر پر پڑھ کر سناتا ہوں جن سے خدا تعالیٰ نے 74 ء میں بھی قربانی ٹی تھی لیکن اس قربانی کا اور مزہ تھا اب اس قربانی کا اور مزہ ہے اور یہ خوش قسمت بہن دونوں مزے لوٹ رہی ہیں۔وہ لکھتی ہیں پیارے آقا 74ء میں لائل پور (فیصل آباد ) میں تھی غالبا شادی کے ایک سال بعد ہی خدا تعالیٰ نے محض اپنے خاص فضل سے اس گناہ گار بندی کو ان چندلوگوں میں چن لیا جن کو خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کرنے کی توفیق ملی۔گھر جلایا گیا، سامان لوٹا گیا ، میاں کو سخت زدوکوب کیا گیا اور آخر کھمبے کے ساتھ باندھ کر جلانے کا پروگرام بنایا گیا تو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کے ارادے خاک میں ملا دیئے اور مارنے والوں نے خود ہی ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا شروع کیا اور میرے میاں کو چھوڑ دیا۔باقی افراد خانہ نگے سر اور ننگے پاؤں گھر سے نکالے گئے۔دوسرے دن جب میرے میاں وہ جلا ہوا گھر دیکھنے گئے تو یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ باقی تو تمام چیزیں لوٹ لیں یا جلائی گئیں لیکن زیور جو ایک معمولی سے لکڑی کے ڈبے میں رکھا ہوا تھا اس کو بے کار چیز سمجھ کر باہر صحن میں پھینک گئے اس طرح خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معجزانہ طور پر میرا