خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 371

خطبات طاہر جلد ۳ 371 خطبہ جمعہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۴ء وہ ہے اور ایک یہ ہو رہا ہے اور عجیب بات ہے کہ یہ خاص دور ہے، پہلے دوروں میں زبر دستی مالی قربانی ہم سے لی جاتی تھی غیر کی طرف سے اور جماعت تو طوعی قربانی کرتی چلی آئی ہے۔لیکن اس دفعہ اس میں کمی آئی ہے اور اس کو خدا نے اس طرح پورا فرما دیا کہ جماعت از خود دونوں ہاتھوں سے اپنے ہے۔اموال کولٹا رہی۔ایک بچی بھتی ہے میں اپنے زیور کے سیٹ میں سے ایک سیٹ دینا چاہتی ہوں جو میں نے ابھی پہنا نہیں ہے اور شاید وہ میرے استعمال میں اسی لئے نہیں آیا کہ وہ احمدیت کے لئے وقف تھا۔آپ اس سیٹ کو جس مرضی تحریک میں شامل کر لیں ، چاہے یورپ کی تحریک میں شامل کر لیں ، چاہے امریکہ کی تحریک میں شامل کر لیں میں نے یہ سیٹ وقف کر دیا ہے اب آپ جس مرضی تحریک میں شامل کر لیں لیکن پلیز (Please) مجھے انکار نہ کریں، اگر خدانخواستہ انکار بھی کیا تو یہ سیٹ میرے کسی کام کا نہیں رہے گا اور نہ کبھی میں اس کو استعمال کروں گی اس لئے پلیز میرے اس سیٹ کو کسی بھی تحریک میں ضرور شامل کر لیں اور میرے لئے دعا بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس سے بھی زیادہ قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک نوجوان لکھتے ہیں : پیارے آقا عید الفطر کی نماز پر فرینکفورٹ گیا تھا۔ہائی وے پر کارکو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ اس تیز رفتاری میں مسابقت کا نتیجہ کیا ہوگا سوائے اس کے کہ مال و جان کا نقصان اور اس کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں اور پھر یہ سوال پیدا ہوا کیوں نہ اس مسابقت کی روح کو مذہبی دنیا میں تبدیل کیا جائے اور میں نے نیت کر لی کہ یوروپین مراکز کی تحریک میں جس شخص کا سب سے زیادہ وعدہ ہوگا اس سے بڑھ کر وعدہ بمعہ ادا ئیگی کروں گا۔مسجد پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ایک تاجر احمدی دوست جو یہاں مستقل رہائش پذیر ہیں انہوں نے چالیس ہزار ڈینیش مارک کا وعدہ کیا ہے۔میں نے پوری تحقیقات کرنے کے بعد کہ اس سے بڑھ کر کسی کا وعدہ نہیں ہے چالیس ہزار پانچ سو ڈ منیش مارک کا وعدہ اپنے دل میں خدا تعالیٰ کے ساتھ کر لیا۔چالیس ہزار مارک جو میرا اندوختہ ہے اور پانچ سوانشاء اللہ تعالیٰ اس ماہ کی تنخواہ سے مل جائیں گے۔میں مجبور ہوں میراقصور نہیں، میرے بس کی بات نہیں میں کیا کروں ، دشمن کی دن رات کی ذلیل حرکتوں اور کارروائیوں سے جو آپ کو تکلیف پہنچ رہی ہے میرا دل یہ کرتا ہے کہ جو