خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد ۳ 360 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء میری وجہ سے عزیز بنایا گیا ہے اس کو تم کیسے ذلیل کر دو گے؟ دو در حقیقت زمیں پر کچھ نہیں ہوسکتا مگر وہی جو آسمان پر پہلے ہو چکا۔“ كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِی کی طرف اشارہ ہے کہ لکھا جا چکا ہے۔اور کوئی زمین کا ہاتھ اس قدر سے زیادہ لمبا نہیں ہو سکتا جس قدر کہ وہ آسمان پر لمبا کیا گیا ہے۔“ مہلت کا مضمون اس فقرے میں بیان فرمایا گیا ہے أُهْلِيُّ لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِيْنٌ (القلم : ۴۶) کہ میں ان کا ہاتھ لمبا کر دیتا ہوں فرمایا لمبا تو کیا جاتا ہے مگر اسی قدر لمبا کیا جاتا ہے جس قدر آسمان پر لکھا گیا ہے کہ اس حد تک میں اس کو ہاتھ لمبا کرنے اور پھیلانے کی اجازت دوں گا۔پس ظلم کے منصوبے باندھنے والے سخت نادان ہیں جو اپنے مکروہ اور قابل شرم منصوبوں کے وقت اس برتر ہستی کو یاد نہیں رکھتے جس کے ارادے کے بغیر ایک پتہ بھی گر نہیں سکتا لہذا وہ اپنے ارادوں میں ہمیشہ نا کام اور شرمندہ رہے ہیں اور ان کی بدی سے راست بازوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا بلکہ خدا کے نشان ظاہر ہوتے ہیں اور خلق اللہ کی معرفت بڑھتی ہے اور قومی اور قادر خدا اگر چہ ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا مگر اپنے عجیب نشانوں سے اپنے تئیں ظاہر کر دیتا ہے۔“ پھر فرماتے ہیں: ” جب ایک شخص اس کے آستانے پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضا مندی کے لئے پیدا کر لیتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں جو وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جناب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قومی ہوں اسی طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل