خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 358

خطبات طاہر جلد ۳ 358 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء گئے۔لَمْ يَنَالُوا خَيْرًا اس حال میں کہ کوئی بھی نفع ان کو نصیب نہ ہوا، کوئی بھلائی ان کو نہ پہنچی۔خیرا کونکرہ کے طور پر رکھ کر یہ معنی ہے کہ کسی قسم کی بھی کوئی بھلائی ان کو نصیب نہ ہوئی، اپنے ہر ارادے میں ناکام ہو گئے وَكَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ اور دیکھو یہاں اللہ لڑا ہے مومنوں کی طرف سے كَفَى اللهُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ کا مطلب ہے کہ خدا کا لڑنا مومنوں کے لئے کافی ہو گیا ان کو ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔جب خدا لڑتا ہے تو بعض دفعہ اس طرح لڑتا ہے کہ مومن کو اپنے دفاع کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔وَكَانَ اللهُ قَوِيًّا عَزِيزًا یہاں بھی وہی مضمون ہے کہ اللہ قوی ہے اور عزیز ہے۔تو جہاں جہاں بھی مقابلے کا مضمون ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی قوت اور اس کی عزت کا ذکر ، اس کی تکرار فرمائی گئی ہے۔پھر آگے جو میں نے دو آیات کے ٹکڑے پڑھے تھے ان میں ایک اور مضمون کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا فرمایا ہے: وَلِيَعْلَمَ اللهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزُ (الحديد (٢٦) کہ اللہ قوی اور عزیز تو ہے اس میں تو شک نہیں ہے لیکن اس کی قوت اور عزت کے اظہار سے پہلے ایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ خدا اپنے بندوں کو دیکھنا چاہتا ہے، ان کو آزمانا چاہتا ہے کہ وہ ایسی حالت میں اللہ کی نصرت کے لئے تیار ہوتے ہیں کہ نہیں کہ نہ اس کی قوت ان کو نظر آ رہی ہوتی ہے نہ اس کی عزت ان کو نظر آ رہی ہوتی ہے، پردہ غیب میں ہوتے ہیں دونوں۔یعنی جب خدا کی قوت مخفی ہوتی ہے ابھی اور اپنے پورے جلال کے ساتھ ظاہر نہیں ہوئی ہوتی ، جب یہ حقیقت کہ خدا نے بہر حال غالب آنا ہے اور عزت کے ساتھ غالب آنا ہے یہ حقیقت موجود تو ہوتی ہے مگر منصہ شہود پر ابھری نہیں ہوتی ایسے وقت میں ایک انتہائی کمزوری کا عالم آتا ہے مومنوں کی جماعت پر اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا کی مدد کر رہے ہیں بجائے اس کے کہ خدا ان کی مدد کر رہا ہے۔فرماتا ہے ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ان بندوں میں کیسی وفا ہے؟ کیا یہ استحقاق رکھتے بھی ہیں کہ نہیں کہ میں ان کی مددکروں تو فرماتا ہے کہ ایسی حالت میں میں اپنے بعض بندوں کو پاتا ہوں کہ نہ تو میری قوت ظاہر ہوئی ہوتی ہے نہ میری عزت ظاہر ہوئی ہوتی ہے اور وہ غائبانہ اندھا دھندا پناسب کچھ میری