خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 353

خطبات طاہر جلد۳ 353 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء سے وہ معنی اس کو عطا ہوتے ہیں۔بنیادی عزیز کے اندر جو معنی ہیں وہ عزت کے ہیں اور عزیز ایک ایسے شخص کو کہتے ہیں جو ہمیشہ عزت کی حالت میں رہتا ہے یعنی اتنا طاقت ور ہے کہ اس کی عزت اس سے چھینی نہیں جاسکتی۔پس غالب ہے اپنی عزت کے اعتبار سے، اپنے کرم کے اعتبار سے، اپنے شرف اور اپنے مرتبہ کے اعتبار سے ایسی ذات کو عزیز کہا جاتا ہے۔پس جب قوی عزیز کی تکرار کی گئی مومنوں کے تعلق میں یا بنیادی طور پر رسل کے تعلق میں تو یہ سارے وعدے ان کو عطا کر دیئے گئے گویا ان سے یہ کہا گیا کہ اے میرے بندو ! تم جسمانی لحاظ سے حقیر سمجھے جارہے ہو اور لوگ سمجھتے ہیں کہ تم سے جس طرح چاہیں ہم سلوک کریں کوئی نہیں ہے جو ہمیں روک سکے لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ قومی خدا تمہارے ساتھ ہے اور جسمانی لحاظ سے بھی تم عزت پاؤ گے، ہم غلبہ پاؤ گے اور تمہارے دشمن ذلیل اور نا کام ہو جائیں گے۔پھر قوی میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ نفسیاتی اعتبار سے تمہیں ذلیل ورسوا کر کے تمہارے اعصاب کو توڑا جاتا ہے اور دشمن یہ سمجھتا ہے کہ تمہارے اعصاب کو شکستہ کر دے گا ، پارہ پارہ کر دے گا اور تمہارے ارادوں کو مضمحل کر دے گا تمہاری قوت ارادی پر حملہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا تو میرے ساتھ تعلق ہے میں قوی ہوں اس لئے جو مجھ سے تعلق جوڑ گیا ہے اس کے ارادوں کو قوت عطا کی جائے گی ، بظاہر کمزوری کی حالت میں بھی ایک غیر متزلزل عزم ان کو عطا ہوگا، کسی قیمت پر وہ ٹلنے والے لوگ نہیں ہیں انہیں ثبات بخشا جائے گا۔یہ دوسرا وعدہ ہے جو قوی میں ان سے کیا گیا اور تیسرا وعدہ ان سے یہ کیا گیا ہے کہ ان کی عقلیں تیز کی جائیں گی ، حکمت ان کو عطا کی جائے گی اور حکمت اور عقل کا غلبہ بھی انہیں کو نصیب ہوگا اور چوتھا وعدہ اور آخری وعدہ یہ ہے کہ صرف یہی نہیں بلکہ روحانیت میں وہ جلد جلد ترقی کریں گے اور جتنا زیادہ کمزور سمجھ کر دشمن ان کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کرے گا اتنی ہی زیادہ وہ روحانی رفعتیں حاصل کرتے چلے جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ روحانیت کے لحاظ سے بھی قوی ہے اور چونکہ خدا کے ساتھ ان کا تعلق قائم ہے اس لئے ان کو یہ چاروں نعمتیں جو عطا ہوں گی ان میں ثبات ہوگا، ان میں استمرار ہوگا ، ان میں استقلال پایا جائے گا اور کسی حالت میں بھی ان سے یہ چھینی نہیں جاسکیں گی۔کتنے عظیم الشان وعدے ہیں جو بار بار ایک ہی تعلق میں دہرائے جارہے ہیں اس لئے خدا جب صفات کو اختیار فرماتا ہے بیان کرنے کے لئے تو اس کے