خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 341
خطبات طاہر جلد ۳ 341 خطبہ جمعہ ۲۹/ جون ۱۹۸۴ء طرح بہت سے دیگر ممالک سے خط آ رہے ہیں۔ایک پاکستان سے ایک بچی نے خط لکھا کہ مجھے ایک غیر متوقع طور پر پچاس ہزار روپیہ خدا تعالیٰ نے عطا فرما دیا تو وصیت کا میرا باقی تھا وہ میں نے ادا کر دیا ہے باقی پندرہ ہزار بچے ہیں اور یہ آپ نے مانگا تو نہیں ہے مگر میں نے دے کے چھوڑنا ہے، یورپ والی جو تحریک ہے اس میں آپ ضرور مجھ سے لے لیں۔وہ بچی ہماری عزیز ہے، بے تکلف ہے، وہ اسی قسم کے خط لکھا کرتی ہے کہ بس میں نے دینا ہی ہے اب آپ جس طرح بھی ہے لینا ہی پڑے گا اس کو اور امانت پڑی ہوئی ہے مجھے فورا بتا ئیں کہ کہاں داخل کراؤں؟ اسی طرح پاکستان کی ہی ایک اور بچی کا خط آیا ہے کہ میں نے کافی دیر سے جوڑ کر ڈیپ فریزر کی خواہش میں پیسے جمع کئے تھے لیکن میری خوش قسمتی کہ جب اتنے پیسے ہوئے جتنے میں اس وقت ڈیپ فریز آتا تھا جب میں نے جمع کرنے شروع کئے تھے اور وہ میرا ٹارگٹ تھا تو بجٹ آ گیا اور قیمتیں بڑھ گئیں ڈیپ فریزر کی اور ساتھ ہی یورپ کی تحریک بھی میرے کانوں تک پہنچ گئی تو اس وقت میں نے اپنی خوش قسمتی پر ناز کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح مجھے بچالیا ہے ورنہ میں خرید لیتی اور یہ روپیہ اب میں یورپ کی تحریک کے لئے پیش کر رہی ہوں۔تو خدا تعالیٰ کی راہ میں دینے والے مچل رہے ہیں ہر جگہ، بے قرار ہیں روحیں۔ایک بیمار عورت جو ہسپتال میں ہے اس کا خط آیا ہے کہ میرا زیور تو ایسی جگہ پڑا ہے کہ میں جاؤں خود ہی نکالوں جا کے اور میں بڑی بے قرار ہوں کہ میرا پتہ نہیں کیا بنتا ہے، میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جلد توفیق دے میرے پر ایک بوجھ بن گیا ہے زیور، جب تک میں دے نہ لوں مجھے تسلی نہیں ہوگی۔ہسپتال سے فارغ ہوں اور جاؤں اور پھر تلاش کر کے دوں اور ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جو میرے ہاتھ میں ہے اس وقت وہ تو میں دے رہی ہوں۔تو خدا کے کام تو نہیں رکیں گے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ایک ملک کی ضروریات اگر وہ ملک پوری نہیں کر سکتا تو دوسرے ملک ان ضروریات کو پورا کریں گے لیکن فکر کرنی چاہئے ایسے احمدیوں کی جن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ قوم بہت عظیم خطرات کے دور میں سے گزر رہی ہو۔اس وقت قوم کے ایک حصہ کو غیر معمولی قربانیاں کرتے ہوئے دیکھنا اور پھر خاموش بیٹھے رہنا ، یہ اتنا بڑا گناہ ہے، اتنی بڑی سخت دلی ہے کہ اگر ان کو فوراً سنبھالا نہ گیا تو یہ لوگ ضائع ہو جائیں گے اور خدا کی ناراضگی کے نیچے آجائیں گے اس لئے ان کی فکر کریں، ان سے بالکل