خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 340
خطبات طاہر جلد ۳ 340 خطبہ جمعہ ۲۹/ جون ۱۹۸۴ء ہے اور انسان کو گناہوں سے نجات دلا کر مالی قربانی خدا کے رستوں کی طرف پر گامزن کرتی ہے زکوۃ اس کا نام رکھا ہوا ہے اسی لئے کہ یہ نشو و نما پیدا کرتی ہے، تزکیہ نفس کرتی ہے مخفی خوابیدہ صفات حسنہ کو ابھارتی ہے، جگاتی ہے اور بہت ترقی دیتی ہے۔اسی طرح ہر مالی قربانی تزکیہ نفس بالعموم یہ کرتی ہے کہ بہت سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، بہت سی مزید نیکیوں کی توفیق پاتا ہے انسان۔تو ایسے لوگوں کو چھوڑ دینا اس خیال سے کہ خدا ضرورتیں پوری کر دے گا ہم محتاج نہیں ہیں یعنی خدا کا دین محتاج نہیں ہے یہ درست نہیں ہے۔پیسہ ان سے آپ نہ مانگیں شروع شروع میں بلکہ وضاحت کر دیں کہ ہم پیسہ مانگنے نہیں آئے ہیں لیکن ان کی روحانی تربیت تو بہر حال فرض ہے، جماعت کا۔اس لئے جماعت امریکہ ان کو کاٹ کر الگ نہ کرے بلکہ اگر ایسا کرے گی تو یہ خدا تعالیٰ کے منشا کے مخالف ہوگا اور ایک متکبرانہ فعل ہوگا۔تکبر بھی ایک ایسی ظالم بلا ہے کہ وہ کئی طریق سے انسان کے نفس کے اندر داخل ہو جاتا ہے۔نیکی کرتے کرتے نیکی میں تکبر داخل ہو جاتا ہے۔چندہ دینے والے بعض دفعہ یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ ہم تو اب چندہ دے بیٹھے ہیں اور یہ قربانیاں پیش کر دیں اب یہ جو لوگ چندہ نہیں دے رہے یہ بڑے ذلیل لوگ ہیں اور بعض اوقات خط آجاتے ہیں کہ ان لوگوں کو کاٹ کر پھینک دیا جائے ، یہ کیا حق رکھتے ہیں جماعت میں رہنے کا؟ ان کو ننگا کیا جائے ، ان کو ظاہر کیا جائے۔وہ بیچارے غلطی سے ایسا کرتے ہیں میں ان کے لئے استغفار کرتا ہوں، سمجھا تا ہوں کہ یہ تمہاری سوچ غلط ہے، یہ مومن کی سوچ نہیں ہے۔اللہ اس قسم کے بندے نہیں پیدا کرنا چاہتا، اللہ تعالیٰ تو اخلاص اور محبت کے ایسے نمونے قائم کرنا چاہتا ہے کہ دشمن کی بھی اصلاح کی طرف توجہ ہو کجا یہ کہ اپنوں کو انسان رد کر دے۔تو امریکہ کی جماعت کو تو بالخصوص میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ روپیہ تو اللہ تعالیٰ لے آئے گا اور انشاء اللہ تعالیٰ بہت سے ایسے دوست ہیں جو بکثرت مجھے چھٹیاں لکھ رہے ہیں کہ آپ کیوں محدود کرتے ہیں ان تحریکوں کو ہم بھی تڑپ رہے ہیں ہمیں بھی موقعہ دیا جائے۔چنانچہ افریقہ سے بھی ایک احمدی خاتون کا خط آیا ہے کہ آپ مانگیں نہ مانگیں میں نے تو زیور دے دیا ہے اب اٹھا لیں اس کو جس طرح مرضی کرنا ہے، ہم کیوں محروم رہیں اس نیکی سے؟ چنانچہ ان کو میں نے لکھا کہ ٹھیک ہے آپ محروم نہیں ہوں گی آپ جماعت کو زیور پیش کردیں۔اسی