خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 319

خطبات طاہر جلد ۳ 319 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۸۴ء اس میں ایک حصہ مضمون کا بیچ میں سے رہ گیا تھا وہ میں اسے بیان کر دوں جس کا خاص طور پر آج کل کے حالات سے تعلق ہے وَلَا يَطَوْنَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُةٍ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کمزور اور پیچھے رہنے والے انہوں نے کبھی ان وادیوں میں قدم نہیں رکھا جہاں جب وہ قدم رکھتے ہیں تو کفار غیظ کی نگاہیں ڈالتے ہیں ان پر اور بڑی نفرت سے ان کو دیکھتے ہیں ۔ مراد یہ ہے کہ مومن وہ ہے جس کا ہر قدم غیر کو غصہ دلا رہا ہوتا ہے، اس کی زندگی کی ہر حالت ہر شکل دشمن کو غیظ دلا رہی ہوتی ہے یعنی قدم بھی اٹھاتے ہیں تو دشمن غیظ کی نگاہ سے دیکھتا ہے یہ مضمون ہے۔ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُقٍ نَّيْلًا اور ان کو دشمنوں سے دکھ پہنچتا ہی رہتا ہے، مسلسل دل آزاری ہوتی چلی جاتی ہے۔ فرماتا ہے یہ جب ہورہا ہوتا ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ حسن واحسان کا معاملہ نہ کرے کیونکہ ان کی ساری زندگی ایسی شکل اختیار کر جاتی ہے خدا کی محبت میں کہ غیر اللہ ان سے نفرت کرنے لگتا ہے اور شدید دل آزاری کرتا ہے، ہر قدم پر ان کو دکھ پہنچاتا ہے بلکہ فرمایا کہ وہ گلیوں میں چل رہے ہوں گے قدم اٹھا رہے ہوں گے تو دوسرے دیکھ رہے ہوں گے غصے کے ساتھ کہ آخر یہ قدم کیوں اٹھا رہے ہیں ؟ ایسی نفرت پیدا ہو جاتی ہے ان سے کہ ان کے لئے جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ پاکستان میں آج کل جو حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ یہی ہے۔ شدید نفرت کے لئے کوشش کی جارہی ہے اور یہ محض اللہ کا احسان اور فضل ہے کہ اس مرتبہ عوام الناس اس دھوکے میں مبتلا نہیں ہور ہے ۔ اخبارات وقف ہیں ، ریڈیو اور ٹیلی وزن وقف ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے متعلق نہایت جھوٹے اور گھناؤنے الزام لگانے پر ، اخبارات کے منہ کالے ہوئے ہوئے ہیں گندگی اچھال اچھال کے۔ ایسا بغض ہے جو ختم ہی نہیں ہونے میں آرہا۔ روزانہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب احمدیوں پر یا احمدیت پر نہایت ہی گندے، بھیانک، جھوٹے مکر وہ الزام نہ لگ رہے ہوں اور ساری جماعت بڑی تکلیف میں مبتلا ہے ۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ یہ سلسلہ کیوں ختم نہیں ہوتا، آخر گندگی کی کوئی حد ہونی چاہئے ۔ ایک بدرو کو بھی صاف کریں تو آخر ۔ صاف ہو جاتی ہے لیکن مطالبات کی ایسی بدرو جاری ہے جو کسی قیمت پر ختم ہونے میں نہیں آرہی اور اس طرح جھوٹ بولا جا رہا ہے کھلم کھلا کہ گویا حیا کا کوئی تصور ہی باقی نہیں رہا۔ آنحضرت ﷺ کی صلى الله عروسه