خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 318
خطبات طاہر جلد ۳ 318 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۸۴ء قربانی کر رہے ہو اس کو علم ہو لیکن تم سے زیادہ ہماری اس بات پر نظر ہے کہ تمہیں علم ہو کہ ہمیں علم ہے۔ یہ ایک عجیب نیا مضمون داخل فرما دیا اس کے اندر یعنی محبت کے تعلقات میں اللہ تعالیٰ نے ایک نیا پہلو داخل فرما دیا ہے۔ فرماتا ہے کہ تمہارے اور ہمارے معاملے میں ایک فرق ہے تم بسا اوقات بھول جاتے ہو کہ جس کی خاطر قربانی کر رہے ہو اس کی تم پر نظر ہے بھی کہ نہیں اور قربانی کرتے چلے جارہے ہوتے ہو۔ ہم تمہیں بتاتے کہ تم بھول بھی جاتے ہو تب بھی ہم نظر ڈال رہے ہوتے ہیں محبت کی ، ایک ادنی سا پہلو بھی تمہاری قربانی کا ایسا نہیں ہے جس پر ہماری نظر نہ پڑ رہی ہو چنانچہ جب مومنوں کا ذکر چلتا ہے آگے دراصل تو وہیں سے شروع ہو گیا تھا کہ تمہیں یہ تکلیف نہیں پہنچی مراد یہ تھی کہ جن کو پہنچی ہے ان کی حالت اور ہو چکی ہے جن کو خدا کے رستے میں دکھ ملے ہیں ان کی تو کیفیت بدل گئی ہے فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا اجر خصوصاً ان مومنوں کا جو حسن ہیں یعنی اپنی نیکیوں کے اندر ایک خاص حسن پیدا کر دیتے ہیں ان کا اجر خدا کبھی ضائع نہیں کرتا ۔ اس موقع پر نیکی کا حسن کیا ہے ، اس بات کو بھول کر کہ کسی کو علم ہو بھی رہا ہے کہ نہیں قربانی کے میدان اپنی استطاعت کے مطابق قربانی دیتے چلے جارہے ہیں۔ فرماتا ہے لیکن ہمارا یہ حال ہے وَلَا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً کہ کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی اور کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی ایسی نہیں جو مومن خدا کی راہ میں خرچ کر رہا ہو اور اللہ کی محبت کی نظر اس پر نہ پڑ رہی ہو ، کوئی دولت کا فرق یا اس مضمون میں فرق نہیں ڈال سکتا ۔ غربت اور امارت ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ اگر چھوٹا سا ایک تنکا بھی انسان خدا کی راہ میں قربان کرنے کی طاقت رکھتا ۔ ہے اور وہ کرتا ہے تو خدا یہ فرماتا ہے کہ تم تو شاید اس قربانی سے شرما رہے ہو اور واقعہ یہ ہے کہ بعض لوگ حقیر قربانی پیش کرتے ہیں تو سو معذرتیں بھی ساتھ کرتے ہیں کہ بڑی سخت شرم آرہی ہے، یہ تو پیش کرنے والی چیز کوئی نہیں لیکن مجبور ہیں ۔ اللہ فرماتا ہے کہ ہم تمہاری قربانیوں سے نہیں شرماتے ہم تو ان کو قبول فرماتے ہیں ، ان پر محبت کی نظر ڈالتے ہیں وَلَا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ اور کوئی ایسی وادی نہیں ہے جہاں وہ قدم رکھتے ہوں مگر ان کے لئے عمل صالح لکھ دیا جاتا ہے ۔ لِيَجْزِيَهُمُ اللهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کے بہترین حصہ کی بہترین جزا عطا فرمائے۔