خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 317

خطبات طاہر جلد ۳ 317 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۸۴ء کئی سال سے ایک بچی ہے جو بے ہوش پڑی ہے لیکن ماں ہے جو خدمت سے باز نہیں آرہی ،مسلسل دن رات اس کے لئے وقف ہے۔تو سچا پیار اور سچی محبت چاہتی تو یہی ہے کہ پتہ لگ جائے اس دوست کو جس کے لئے میں قربانی کر رہا ہوں لیکن اگر نہ پتہ چلے تو تب بھی سچی محبت کرنے والا قربانی سے باز نہیں آتا۔اس کے برعکس ریا کارجو ہیں ان کا بالکل الٹ منظر ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں ریا کاروں کا ذکر کر کے بھی مومنوں کو ان سے ممتاز کرتا ہے اور ریا کے خطروں سے بھی بڑی وضاحت کے ساتھ متنبہ فرماتا ہے۔ایسی عجیب کتاب ہے یہ تربیت کی کہ فطرت کا کوئی باریک سے باریک پہلو بھی نہیں چھوڑتی۔بہر حال ریا کار کا جو فلسفہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جب تک پتہ لگتا رہے قربانی کرتا رہتا ہے جب پتہ نہ لگے تو بسا اوقات قربانی لینے لگ جاتا ہے۔چنانچہ اس سلسلے میں جاحظ نے کتاب البخلاء میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔وہ کہتا ہے ایک بخیل کے پاس میں مہمان ٹھہرا تو جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا حالانکہ میں سوچا کرتا تھا کہ لوگ مبالغے کرتے ہیں اور ایسا نہیں ہوسکتا کوئی لیکن اس کے معاملے میں یہ بات درست تھی کہ جیسا سنا ویسا پایا۔کہتے ہیں ایک ہی تکیہ تھا تو رات اس نے مجھے کہا کہ اس تکیہ کے ایک سرے پر تم سر رکھ لو اور دوسرے پر میں رکھ لیتا ہوں اور اس طرح دونوں آرام سے سوتے ہیں۔اس نے کہا ایک تو گندا تھا مجھے کراہت آرہی تھی دوسرے مجھے خیال آیا کہ نہ اس کو نیند آئے گی نہ مجھے، سر ٹکرا رہے ہوں اور تکیہ ایک ہو تو کس طرح سو سکتے ہیں دو مختلف مزاج کے مرد؟ میں نے بہت تکلف کیا لیکن اس نے کہا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ میری مہمان نوازی کے خلاف ہے چنانچہ اس وقت مجھے شک پڑا کہ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں بتانے والوں نے مبالغہ کر دیا تھا ایسا یہ نہیں ہے آخر ایک مبالغہ پکڑا ہی گیا تو اس کے تکلف کے نتیجہ میں، بے انتہا اصرار کے نتیجہ میں جاحظ لکھتا ہے کہ میں مجبور ہو گیا اور میں نے بھی اسی تکیہ پر سر رکھ لیا لیکن نیند کہاں آنی تھی مجھے۔کچھ عرصہ کے بعد اس نے جب محسوس کیا کہ سو گیا ہوگا تو آرام سے میرا سراٹھا کر زمین پر رکھ دیا اور تکیہ پورا نکال لیا۔تو یہ ریا کاری ہے۔عام جو قربانی کے نتیجہ میں علم ہونا بالکل اور بات ہے لیکن جب علم نہ ہو تو جو کچھ ہے وہ بھی کھینچ لوسر کے نیچے سے، یہ ہے ریا کاری اور جھوٹ۔تو قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہماری اس بات پر نظر ہے کہ تمہارا دل چاہتا ہے کہ جس کی خاطر