خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 316
خطبات طاہر جلد ۳ 316 خطبه جمعه ۱۵/ جون ۱۹۸۴ء اور وہ عام ظاہری موٹی موٹی چیزوں کے بدلوں کی طرف تھوکتا بھی نہیں۔وہ زیادہ لطیف بدلہ چاہتا ہے اپنی قربانیوں کا اور سب سے زیادہ انسان کی پہنچ قربانی کے معاملہ میں یہ ہے کہ مقابل پر اس کو مادی طور پر کچھ نہ دیا جائے لیکن جس شخص کے لئے قربانی کی گئی ہے ، جس محبوب کے لئے کچھ کیا جارہا ہے اس کو معلوم ہو جائے اور صرف معلوم ہونا ہی اس کی جزا بن جاتی ہے۔ادنی آدمی جو چھوٹے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں انسانیت کے ان کی قربانی کے اندر کچھ نہ کچھ بدلے کے پہلو موجود ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ ( المدر:) تم ایسے احسان نہ کیا کرو کہ جس کے نتیجہ میں مقابل پر کچھ بدلے بھی چاہتے ہو، تمہاری نیتوں میں یہ بات داخل ہو جائے کہ کچھ نہ کچھ فیض تو مل ہی جائے گا۔جس طرح ہمارے زمیندار پنجاب میں کمیوں پر احسان کرتے ہیں اور پھر سو دفعہ جتاتے بھی ہیں اور جب بیماری ہو تو کہتے ہیں فلاں وقت تم روٹی کے وقت تو آگئے تھے ، بھوک کے وقت تو آگئے تھے اب ہمیں تکلیف ہے تو مٹھی چاپی کے وقت تمہیں خیال نہیں آیا ؟ تو یہ بہت ہی گھٹیا قسم کی قربانیاں یا گھٹیا قسم کے تھے ہیں۔مومن کا مقام بہت ہی بلند ہے اور جب خدا مومن کا ذکر کرتا ہے تو سب سے اعلیٰ درجے کی فطرت انسانی کا ذکر کرتا ہے۔چنانچہ امر واقعہ یہ ہے کہ جب انسان قربانی کرے تو بدلہ تو بہر حال چاہتا ہے یہ بات تو غلط ہے کہ بدلہ نہیں چاہتا لیکن اس کا بدلہ لطیف ہوتا چلا جاتا ہے، اس کے احساسات اس کے تصورات کی چمک دمک کے مطابق اس کا بدلے کا تصور بھی ساتھ پالش ہوتا چلا جاتا ہے۔چنانچہ مائیں جب بچوں کے لئے قربانیاں کرتی ہیں تو صرف یہی جذبہ پیش نظر ہوتا ہے کہ ان کو معلوم ہو کہ ہم ان کے لئے کیا کر رہے ہیں چنانچہ پنجابی میں کہا جاتا ہے ستے پتر دامنہ کی چمناں اگر سویا ہوا ہو بچہ تو کہتے ہیں اس کو پیار کرنے کا کیا فائدہ؟ اس کو پتہ ہی نہیں لگنا کہ کس نے پیار کیا؟ فائدہ کیا ہوا؟ تو پتہ تو ضرور لگنا چاہئے۔لیکن اس میں پتہ لگنے میں اور ریا کاری میں پھر آگے فرق پڑ جاتا ہے۔ریا کارلوگ وہ ہوتے ہیں کہ اگر پتہ نہ لگے تو قربانی نہیں کرتے لیکن سچے پیار کرنے والے اور محبت کرنے والے چاہتے تو یہی ہیں یہ فطرتِ انسانی کا ایک حصہ ہے اس سے وہ ہٹ نہیں سکتے ، جدا نہیں ہو سکتے۔چاہتے تو یہی ہیں کہ محبوب کو ہماری قربانیوں کا پتہ تو چلے کہ کس نے کیا کیا ہے اس کے لئے لیکن اگر نہ بھی پتہ چلے تو قربانیوں سے پیچھے نہیں ہٹتے۔بچے جو بے ہوش ہوتے ہیں بعض ایسے بچے بھی ہیں جو حادثات میں بے ہوش ہو گئے اور کئی کئی مہینے بلکہ بعض بچوں کو میں جانتا ہوں